الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ قَبْضَ عَبْدٍ (بِأَرْضٍ يَجْعَلُ لَهُ فِيهَا حَاجَةً وَمَا جَاءَ فِي مَوْتِ الْفَجْأَةِ)
اس کا بیان کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا فیصلہ کرتا ہے¤تو اس کے لیے اس میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے¤نیز اچانک موت کا بیان
حدیث نمبر: 3025
عَنْ أَبِي عَزَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا أَرَادَ قَبْضَ رُوحِ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ فِيهَا أَوْقَاتًا بِهَا حَاجَةً) )
سیّدنا ابوعزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس علاقے میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3025]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 2147، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15624»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَاکَانَ أَجَلُ أَحَدِکُمْ بِاَرْضٍ، أَثْبَتَ اللّٰہُ لَہٗ إِلَیْھَا حَاجَۃً، فَإِذَا بَلَغَ أَقْصٰی أَثَرِہٖ تَوَفَّاہُ، فَتَقُوْلُ الْاَرْضُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: یَارَبِّ! ھٰذَا مَااسْتَوْدَعْتَنِيْ۔)) (ابن ماجہ: ۲/۵۶۶، الصحیحۃ: ۱۲۲۲) یعنی: ”آدمی نے زمین کے جس (علاقے) میں مرنا ہوتا ہے تواللہ تعالیٰ اس علاقے تک پہنچنے کے لیے کسی حاجت (کا بہانہ) بنا دیتے ہیں۔ جب وہ آدمی اپنی (زندگی) کے آخری نشانات تک پہنچتا ہے تو اسے موت آجاتی ہے۔ قیامت کے دن زمین کہے گی: اے میرے رب! یہ (وہ بندہ) ہے جو تو نے مجھے سونپا تھا۔“ ہر کسی کی موت کے زمان و مکاںکا فیصلہ ہو چکا ہے، ہر کسی کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ بنتا ہے اور وہ اپنی جائے موت تک پہنچ جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 2147
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3025 in Urdu