الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ قَبْضَ عَبْدٍ (بِأَرْضٍ يَجْعَلُ لَهُ فِيهَا حَاجَةً وَمَا جَاءَ فِي مَوْتِ الْفَجْأَةِ)
اس کا بیان کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا فیصلہ کرتا ہے¤تو اس کے لیے اس میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے¤نیز اچانک موت کا بیان
حدیث نمبر: 3026
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَوْتِ الْفَجْأَةِ، فَقَالَ: ( (رَاحَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ، وَأَخْذَةُ أَسَفٍ لِلْفَاجِرِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اچانک موت کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مومن کے لیے تو راحت ہے، لیکن گنہگار کے لیے غضب کی پکڑ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3026]
تخریج الحدیث: «اسناده واهٍ، عبيد الله بن الوليد الوصافي متروك، وعبد الله بن عبيد الله بن عمير لم يسمع من عائشة۔ ليكن يه حديث شواهد كي بنا پر صحيح هے۔ أخرجه البيھقي: 3/ 379، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 3153، وعبد الرزاق: 6781، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25556»
وضاحت: فوائد: … چونکہ مومن ہر وقت موت کو یاد رکھتا ہے اور اس کے لیے مکمل تیار ہوتا ہے، جبکہ گنہگار اور بدکار اپنے گناہوں کی دلدل میں ابھی تک پھنسا ہوتا ہے اور ابھی تک اس نے توبہ کرنے کا سوچا ہی نہیں ہوتا کہ موت اسے دبوچ لیتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده واهٍ
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3026 in Urdu