الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ
میت پر رونے کی ناجائز صورت کا بیان
حدیث نمبر: 3048
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ مِنْ أُحُدٍ سَمِعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَقَالَ: ( (لَكِنْ حَمْزَةَ لَا بَوَكِيَ لَهُ) ) ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فَجِئْنَ يَبْكِينَ عَلَى حَمْزَةَ، قَالَ: فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَسَمِعَهُنَّ وَهُنَّ بَاكِيَاتٍ فَقَالَ: ( (وَيَحَهُنَّ، لَمْ يَزَلْنَ يَبْكِينَ مُنْذُ اللَّيْلَةِ مُرُوهُنَّ فَلْيَرْجِعْنَ وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب احد سے واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصاری خواتین کی آواز سنی، جو اپنے شوہروں کی شہادت پر رو رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن حمزہ، اس کے لیے تو رونے والیاں کوئی نہیں ہیں۔ جب یہ بات انصاری خواتین کو پہنچی تو وہ آئیں اور سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے اور ان کو روتے ہوئے سنا تو فرمایا: ان پر افسوس ہے، یہ رات سے روتی رہیں، ان سے کہو کہ لوٹ جائیں اور آج کے بعد کوئی کسی فوت ہونے والے پر نہ روئیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3048]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1591، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5563 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5563»
وضاحت: فوائد: … ”وَیْح“ کا لفظ کبھی رحمت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کبھی عذاب کے لیے، سیاق و سباق کو دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔اس حدیث سے واضح طور پر پتہ چل رہا ہے کہ شروع میں اس قسم کا رونا جائز تھا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1591
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3048 in Urdu