الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ
میت پر رونے کی ناجائز صورت کا بیان
حدیث نمبر: 3049
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَبَكَوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوا عَنْ ذَلِكَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَتْ: مَنْ حَلَقَ أَوْ خَرَقَ أَوْ سَلَقَ
یزید بن اوس کہتے ہیں:سیّدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، جب لوگ رونے لگے تو انہوں نے کہا: جس آدمی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے براءت کا اظہار کیا، میں بھی اس سے بری ہوں۔ لوگوں نے ان کی بیوی سے پوچھا کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کن لوگوں سے براءت کا اظہار کیا)۔ اس نے کہا: جو مصیبت کے وقت سرمنڈائے، یا دامن پھاڑے یا ممنوعہ الفاظ کہتے ہوئے بلند آواز میں روئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3049]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 104، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19535، 19539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19768»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 104
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3049 in Urdu