🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ مِنْ غَيْرِ نَوْحٍ
نوحہ کے بغیر رونے کی رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3077
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ مَوْتِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الصَّبِيَّ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ، قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ، قَالَ: فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ، وَاللَّهِ! إِنَّا بِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لائے اوربچے کو بلوایا، پھراسے اپنے سینہ سے لگا لیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اس وقت حالت ِ نزع میں تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں اور دل غمگین ہو رہا ہے، لیکن ہم بات صرف وہی کہیں گے جو ہمارے رب کو راضی کرے گی، اے ابراہیم! اللہ کی قسم! ہم تیری وجہ سے یقینا غمگین ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3077]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4462، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13031 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13045»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: (جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کو عالم نزع میں دیکھ کر رونے لگے)تو سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی رو رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن عوف! یہ تو رحمت ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزید آنسو بہنے لگے۔ حافظ ابن حجرkنے کہا: سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اسی حدیث میں یہ الفاظ بھی واقع ہوئے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ رو رہے ہیں، کیا آپ نے رونے سے منع نہیں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تو اِن دو قسم کی بری اور بیوقوف آوازوں سے منع کیا ہے: (۱)گاہنے والی آواز، جو کہ لہو، کھیل اور شیطان کی بانسری ہے اور (۲) مصیبت کے وقت کی آواز، یعنی چہرے کو نوچنا، گریبان کو چاک کرنا اور شیطان کی آواز (یعنی چیخ و پکار)، یہ میرا رونا تو رحمت ہے اور جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“ (فتح الباری: ۳/۲۲۴)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4462


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3077 in Urdu