🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ عَدَدِ تَكْبِيرِ صَلَاةِ الْجَنَازَةِ وَمَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ مِنْهَا
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3180
عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَامَ عَلَى جَنَازَةِ بِنْتٍ لَهُ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ قَامَ هُنَيَّةً، فَسَبَّحَ بَعْضُ الْقَوْمِ فَانْفَتَلَ فَقَالَ: أَكُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنِّي أُكَبِّرُ الْخَامِسَةَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَبَّرَ الرَّابِعَةَ قَامَ هُنَيَّةً، فَلَمَّا وَضِعَتْ الْجَنَازَةُ جَلَسَ وَجَلَسْنَا إِلَيْهِ
ابراہیم ہجری کہتے ہیں کہ سیّدناعبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیرات کہیں، پھر کچھ دیر کے لیے کھڑے رہے۔ جب بعض مقتدیوں نے سبحان اللہ کہہ کر لقمہ دیا تو انہوں نے سلام پھیر کر کہا: کیا تمہارا یہ خیال تھا کہ میں پانچویں تکبیر کہنے والا ہوں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب چوتھی تکبیر کہہ لیتے تو کچھ دیر اسی حالت میں کھڑے رہتے، پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا تو وہ بیٹھ گئے اور ہم بھی اس کے پاس بیٹھ گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3180]
تخریج الحدیث: «ضعيف لضعف علي بن عاصم والواسطي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19417 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19637»
وضاحت: فوائد: … امام احمدkنے تکبیرات کی مختلف تعداد پر مشتمل روایات کا احاطہ نہیں کیا، اس موضوع کی تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز جنازہ میں کم از کم تکبیرات کی تعداد چار ہے اور زیادہ سے زیادہ نو ہے، زیادہ تر احادیث میں چار تکبیرات کا ہی ذکر ہے۔چار اور پانچ تکبیرات کے دلائل تو اوپر گزر چکے ہیں، باقی تعداد درج ذیل مرفوع اور موقوف روایات سے ثابت ہوتی ہے۔سیّدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں نو تکبیرات کہیں۔ (معانی الآثار للطحاوی: ۱/ ۲۹۰)

الحكم على الحديث:
ضعيف لضعف علي بن عاصم والواسطي


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3180 in Urdu