الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَالْإِسْرَاعِ بِهَا مِنْ غَيْرِ رَمَلٍ
جنازہ کو اٹھانے، اس کو لے چلنے اور اس سے متعلقہ دیگر امور کا بیان¤جنازہ کو اٹھانے اور دوڑے بغیر تیزی سے لے کر جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3198
عَنْ عُيَيْنَةَ ثَنَا أَبِي قَالَ: خَرَجْتُ فِي جَنَازَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: فَجَعَلَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِهِ يَسْتَقْبِلُونَ الْجَنَازَةَ فَيَمْشُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، وَيَقُولُونَ رُوَيْدًا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ، قَالَ: فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقِ الْمِرْبَدِ فَلَمَّا رَأَى أَوْلَئِكَ وَمَا يَصْنَعُونَ حَمَلَ عَلَيْهِمْ بِبَغْلَتِهِ، وَأَهْوَى لَهُمْ بِالسَّوْطِ وَقَالَ: خَلُّوا، فَوَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ أَبِي قَاسِمٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَكَادُ أَنْ نَرْمُلَ بِهَا
عیینہ کے والد عبدالرحمن بن جوشن کہتے ہیں:میں عبدالرحمن بن سمرہ کے جنازہ کے ساتھ نکلا اور دیکھا کہ ان کے گھرانے کے بعض لوگ اس جنازے آگے آگے الٹے پاؤں چلتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں: (لوگو!) اللہ تم میں برکت کرے، آرام سے چلو۔اسی اثنا میں سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مربد والے راستے سے ہمیں آ ملے، جب ان لوگوں کو یہ کام کرتے دیکھا تو خچر ان پر چڑھا دیا اور اپنی لاٹھی ان پر لہرائی اور کہا:ہٹ جاؤ۔ اس ذات کی قسم جس نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کو عزت بخشی! میں نے اس سلسلہ میں لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دیکھا، قریب ہوتا تھا کہ ہم دوڑ ہی پڑیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3198]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3182، 3183، والنسائي:4/ 42، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20400 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20671»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ جنازے کو لے کر جلدی جلدی چلنا چاہیے، ہمارے ہاں یہی طریقہ رائج ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3182
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3198 in Urdu