🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَالْإِسْرَاعِ بِهَا مِنْ غَيْرِ رَمَلٍ
جنازہ کو اٹھانے، اس کو لے چلنے اور اس سے متعلقہ دیگر امور کا بیان¤جنازہ کو اٹھانے اور دوڑے بغیر تیزی سے لے کر جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3193
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا وَضِعَتِ الْجَنَازَةُ، وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ يَا وَيْلَهَا، أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ، وَلَوْ سَمِعَهَا الْإِنْسَانُ لَصَعِقَ) )
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میت کو چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور مرد اسے کندھوں پر اٹھا لیتے ہے، اگر وہ میت نیک ہو تو کہتی ہے: مجھے آگے لے چلو اور اگر وہ نیک نہ ہو تو کہتی ہے: ہائے! تم مجھے کدھر لے کر جا رہے ہو۔ انسان کے علاوہ ہر مخلوق اس کی آواز کو سنتی ہے اور اگر انسان اسے سن لے تو وہ بے ہوش ہو جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3193]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1314، 1316، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11372 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11392»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے معنی ومفہوم کو بلاتاویل تسلیم کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ اس میت میں شعور پیدا کر کے اس کو بولنے کی قوت عطا کرتا ہے، جبکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1314
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3194
عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِسَرِفَ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذِهِ مَيْمُونَةُ، إِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا
عطاء کہتے ہیں:ہم سرف کے مقام پر سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں شریک تھے، انھوں نے کہا: یہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، جب تم ان کی میت کو اٹھاؤ تو اسے شدت اور سختی کے ساتھ حرکت نہ دو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3194]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5067، ومسلم: 1465، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2044، 3259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2044»
وضاحت: فوائد: … جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمرۂ قضا ادا کر کے مکہ سے واپس لوٹ رہے تھے تو اسی مقام پر سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تھی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ میت کی کرامت کا لحاظ کرتے ہوئے اس کے ساتھ نرمی کی جائے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5067
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3195
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّيْرِ بِالْجَنَازَةِ، فَقَالَ: السَّيْرُ مَا دُونَ الْخَبَبِ، فَإِنْ يَكُ خَيْرًا يُعَجَّلْ إِلَيْهِ أَوْ تُعَجَّلْ إِلَيْهِ، وَإِنْ يَكَ سِوَى ذَلِكَ فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ، الْجَنَازَةُ مَطْبُوعَةٌ وَلَا تَتْبَعُ، لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَقَدَّمَهَا
سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنازہ کو لے کر جانے کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے لے کر تیزی سے چلا جائے، لیکن دوڑا نہ جائے، اگر وہ میت نیک ہوا تو وہ بھلائی کی طرف جلدی پہنچے گا اور اگر نیک نہ ہوا تو آگ والوں کے لیے ہلاکت ہے، جنازے کے پیچھے پیچھے چلا جائے، اس کو پیچھے نہ لگایا جائے، جو جنازے کے آگے چلے گا وہ ہم میں سے نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3195]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة أبي ماجد الحنفي، ويحيي بن عبد الله بن الحارث التيمي ضعفه ابن معين وأبوحاتم والنسائي، وقال احمد: ليس به بأس، وقال العجلي: يكتب حديثه وليس بالقوي، ووثقه الترمذي۔ أخرجه ابوداود: 3184، والترمذي: 1011، وابن ماجه: 1484، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3585، 3939 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3939»
وضاحت: فوائد: … پیدل چلنے والے لوگ جنازے کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے چل سکتے ہیں، آگے اس مسئلہ کی وضاحت آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة أبي ماجد الحنفي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3196
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ: لَا تَضْرِبُوا عَلَيَّ فُسْطَاطًا، وَلَا تَتْبَعُونِي بِمِجْمَرٍ، وَأَسْرِعُوا بِي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِذَا وَضِعَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي، وَإِذَا وَضِعَ الرَّجُلُ السُّوءُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ يَا وَيْلَهُ أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي) )
عبدالرحمن بن مہران کہتے ہیں:جب سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا: مجھ پر کوئی خیمہ نصب نہ کرنا اور میرے جنازے کے ساتھ دھونی دان لے کر نہ جانا اور میرے بارے میں جلدی کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب نیک آدمی کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: مجھے جلد لے چلو، مجھے جلد لے چلو، لیکن جب گنہگار بندے کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: ہائے! تم مجھے کدھر لے جا رہے ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3196]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 4/40، والطيالسي: 2336، والبيھقي: 4/ 21، وأخرجه البخاري عن أبي سعيد الخدري: 1314، 1316، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7914 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7901»
وضاحت: فوائد: … مجھ پر کوئی خیمہ نصب نہ کرنا اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی ایسا خیمہ نہ لگانا، جس میں لوگ تعزیت کے لیے جمع ہو کر بیٹھ جائیں۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 4/40
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3197
عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ، قَالَ: ( (أَسْرِعُوا بِجَنَائِزِكُمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً عَجَّلْتُمُوهَا إِلَى الْخَيْرِ، وَإِنْ كَانَتْ طَالِحَةً اسْتَرَحْتُمْ مِنْهَا وَوَضَعْتُمُوهَا عَنْ رِقَابِكُمْ) )
ابن المسیب کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، راوی کہتا ہے: میرا خیال ہے کہ انھوں نے مرفوعا ہی بیان کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے جنازوں کے سلسلے میں جلدی کیا کرو، اگر وہ نیک ہوں تو تم انہیں خیر کی طرف جلد لے جاؤ گے اور اگر وہ برے ہوں گے تو تم (جلدی) راحت پا لو گے اور ان کو اپنے کندھوں سے اتار دو گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3197]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1315، ومسلم: 944، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7267، 7772 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7759»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1315
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3198
عَنْ عُيَيْنَةَ ثَنَا أَبِي قَالَ: خَرَجْتُ فِي جَنَازَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: فَجَعَلَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِهِ يَسْتَقْبِلُونَ الْجَنَازَةَ فَيَمْشُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، وَيَقُولُونَ رُوَيْدًا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ، قَالَ: فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقِ الْمِرْبَدِ فَلَمَّا رَأَى أَوْلَئِكَ وَمَا يَصْنَعُونَ حَمَلَ عَلَيْهِمْ بِبَغْلَتِهِ، وَأَهْوَى لَهُمْ بِالسَّوْطِ وَقَالَ: خَلُّوا، فَوَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ أَبِي قَاسِمٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَكَادُ أَنْ نَرْمُلَ بِهَا
عیینہ کے والد عبدالرحمن بن جوشن کہتے ہیں:میں عبدالرحمن بن سمرہ کے جنازہ کے ساتھ نکلا اور دیکھا کہ ان کے گھرانے کے بعض لوگ اس جنازے آگے آگے الٹے پاؤں چلتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں: (لوگو!) اللہ تم میں برکت کرے، آرام سے چلو۔اسی اثنا میں سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مربد والے راستے سے ہمیں آ ملے، جب ان لوگوں کو یہ کام کرتے دیکھا تو خچر ان پر چڑھا دیا اور اپنی لاٹھی ان پر لہرائی اور کہا:ہٹ جاؤ۔ اس ذات کی قسم جس نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کو عزت بخشی! میں نے اس سلسلہ میں لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دیکھا، قریب ہوتا تھا کہ ہم دوڑ ہی پڑیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3198]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3182، 3183، والنسائي:4/ 42، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20400 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20671»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ جنازے کو لے کر جلدی جلدی چلنا چاہیے، ہمارے ہاں یہی طریقہ رائج ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3182
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3199
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبِعَ جَنَازَةً، قَالَ: ( (انْبَسِطُوا بِهَا وَلَا تَدِبُّوا دَبِيبَ الْيَهُودِ بِجَنَائِزِهَا) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی جنازہ کے ساتھ جاتے تو فرماتے: اسے لے کر جلدی جلدی چلو اور یہودیوں کی طرح جنازہ لے کر آہستہ آہستہ نہ چلو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3199]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، عبد الحكيم قائد سعيد بن أبي عروبة متروك، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8760 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8745»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3200
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ (أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: إِنَّ أُنَاسًا مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ يُسْرِعُونَ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لِتَكُنْ عَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ) )
سیّدناابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: بعض لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ کو لے کر بڑی تیزی کے ساتھ گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پر سکینت ہونی چاہیے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3200]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم أخرجه ابن ماجه: 1479، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19841»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم أخرجه ابن ماجه: 1479
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3201
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَنَازَةٌ تُمْخَضُ مَخْضَ الزِّقِّ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (عَلَيْكُمُ الْقَصْدَ) )
(دوسری سند) سیّدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، مشکیزے کی طرح ہل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3201]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19873»
وضاحت: فوائد: … جنازہ اٹھانا مسلمانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ہے، لیکن اس تعاون کی شکل یہ نہیں ہونی

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19873
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں