🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابُ ثَنَاءِ النَّاسِ عَلَى الْمَيِّتِ وَشَهَادَتِهِمْ
لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3244
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ قَالَ: ( (مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ) ) ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ قَالَ: ( (الْمُؤْمِنُ اسْتَرَاحَ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى، وَالْفَاجِرُ اسْتَرَاحَ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ) )
سیّدنا ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ راحت پا گیا ہے یا دوسروں نے اس سے راحت پائی ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا کیا مطلب ہے کہ یہ راحت پا گیا ہے یا دوسروں نے اس سے راحت پائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن دنیا کے مصائب اور تکلیفوں سے راحت پا کر اللہ کی رحمت میں چلا جاتا ہے اور فاجر آدمی سے دوسرے انسان، شہر، درخت اور چوپائے راحت پا جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3244]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6513، ومسلم: 950، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2256 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22904»
وضاحت: فوائد: … کوئی مانے یا نہ مانے، یہ ایک حقیقت ہے کہ اس گواہی سے مراد قطعی طور پر یہ نہیں ہے کہ تکلف کے ساتھ میت کے مرثیے پڑھے جائیں اور نظم و نثر کی صورت میں مختلف مجلسوں میں اس کے اوصاف بیان کیے جائے اور اس ضمن میں بعض گویّا نما اور قوّال لوگوں کی خدمات حاصل کی جائیں، جن کا مقصود لواحقین کی خوشامد اور چاپلوسی کرنا ہوتا ہے۔ان احادیث میں ایسی شہادت کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں میں الہام کرتا ہے اور وہ چاہتے نہ چاہتے ہوئے بول پڑتے ہیں اور یہ گواہی دینے والے ثقہ، بااعتماد اور شریعت کا فہم رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی طبیعت اور معاشرے سے متاثر ہوئے بغیر میت کی اچھائیوں یا برائیوں کو سامنے رکھ میت کا اچھا یا برا تذکرہ کر بیٹھتے ہیں، جبکہ برے تذکرے سے ان کا مقصود مردوں کو برا بھلا کہنا بھی نہیں ہوتا ہے، جس سے اگلی احادیث میں منع کیا جا رہا ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6513


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3244 in Urdu