الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ مَا جَاءَ فِي بَابِ وُصُولِ ثَوَابِ الْقَرِيبِ الْمُهْدَاةِ إِلَى الْمَوْتَى
وہ اعمالِ صالحہ جن کا ثواب فوت شدگان تک پہنچتا ہے
حدیث نمبر: 3289
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ أَخَا بَنِي سَاعِدَةَ تُوُفِّيَتْ أُمُّهُ، وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَأَنَا غَائِبٌ عَنْهَا، فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ بِشَيْءٍ عَنْهَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) ، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ حَائِطِي الْمِخْرَفَ (وَفِي لَفْظٍ: الْمِخْرَافَ) صَدَقَةٌ عَلَيْهَا
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنو ساعدہ کے بھائی سیّدناسعد بن عبادہ ساعدی رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہو گیا، جبکہ وہ موجود نہیں تھے،بعد میں انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھتے ہوئے کہا:اے اللہ کے رسول! میری عدم موجودگی میں میری ماں فوت ہو گئی ہے،اب اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اسے فائدہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جی ہاں۔ تو انہوں نے کہا:میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخرف (یا مخراف) نامی باغ اس کے لیے صدقہ ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3289]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2756، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3080، 3508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3508»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2756
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3289 in Urdu