🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. بَابُ مَا جَاءَ فِي بَابِ وُصُولِ ثَوَابِ الْقَرِيبِ الْمُهْدَاةِ إِلَى الْمَوْتَى
وہ اعمالِ صالحہ جن کا ثواب فوت شدگان تک پہنچتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3289
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ أَخَا بَنِي سَاعِدَةَ تُوُفِّيَتْ أُمُّهُ، وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَأَنَا غَائِبٌ عَنْهَا، فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ بِشَيْءٍ عَنْهَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) ، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ حَائِطِي الْمِخْرَفَ (وَفِي لَفْظٍ: الْمِخْرَافَ) صَدَقَةٌ عَلَيْهَا
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنو ساعدہ کے بھائی سیّدناسعد بن عبادہ ساعدی رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہو گیا، جبکہ وہ موجود نہیں تھے،بعد میں انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھتے ہوئے کہا:اے اللہ کے رسول! میری عدم موجودگی میں میری ماں فوت ہو گئی ہے،اب اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اسے فائدہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جی ہاں۔ تو انہوں نے کہا:میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخرف (یا مخراف) نامی باغ اس کے لیے صدقہ ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3289]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2756، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3080، 3508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3508»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2756
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3290
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ: میری والدہ اچانک فوت ہو گئی ہے، میرا خیال ہے کہ وہ بات کر سکتی تو صدقہ کرتی، تو اب اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اسے ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3290]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2760، ومسلم: 1004، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24251 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24755»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2760
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3291
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) ، قَالَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ( (سَقْيُ الْمَاءِ) ) ، قَالَ: فَتِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: مَنْ يَقُولُ ’’تِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ‘‘؟ قَالَ: الْحَسَنُ
حسن کہتے ہیں کہ سیّدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہو گیا،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: میری والدہ فوت ہو گئی ہے، کیا میں اس کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: تو پھر کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانی پلانا۔ اس نے کہا: مدینہ میں یہ آل سعد کی سبیل ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے پوچھا کہ مدینہ میں یہ آل سعد کی سبیل ہے کے الفاظ کہنے والا راوی کون ہے۔ انھوں نے کہا: حسن ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3291]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابوداود: 1681، والنسائي: 6/ 255، وابن ماجه:3684، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24346»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی ماں کی طرف سے کنواں کھدوایا تھا۔

الحكم على الحديث: حسن۔ أخرجه ابوداود: 1681
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3292
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ، أَفَيُجْزِي عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا؟ قَالَ: ( (أَعْتِقْ عَنْ أُمِّكَ) )
سیّدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میری والدہ فوت ہو گئی ہے، جبکہ ان پر ایک نذر بھی تھی، اب اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کروں تو ان کو کفایت کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی ماں کی طرف سے آزاد کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3292]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2761، 6698، ومسلم: 1638 لكن جعلاه من مسند ابن عباس، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1893، 23846 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24347»
وضاحت: فوائد: … ان کی ماں نے ایک غلام آزاد کرنے کی نذر مانی تھی۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2761
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3293
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَنْحَرَ مِائَةَ بَدَنَةٍ، وَإِنَّ هِشَامَ بْنَ الْعَاصِ نَحَرَ حِصَّتَهُ خَمْسِينَ بَدَنَةً، وَأَنَّ عَمْرًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: ( (أَمَّا أَبُوكَ فَلَوْ كَانَ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ فَصُمْتَ وَتَصَدَّقْتَ عَنْهُ نَفَعَهُ ذَلِكَ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عاص بن وائل نے جاہلیت میں سو اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تھی، (پھر وہ مر گیا اوراس کے ایک بیٹے) ہشام بن عاص نے اپنے حصے کے پچاس اونٹ ذبح کر دیئے، لیکن سیّدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے باپ نے توحید کا اقرار کیا ہوتا اور پھر تم اس کی طرف سے روزے رکھتے اور صدقہ کرتے تو اسے اس کا فائدہ ہوتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3293]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2883، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6704 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6704»
وضاحت: فوائد: … عاص کے دو بیٹے ہشام اور عمرو تھے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفر پر مرنے والے کو نیک عمل کوئی فائدہ نہیں دیتا۔

الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2883
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3294
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يُوصِ، فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهُ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میرے والد فوت ہو گئے ہیں اور انھوں نے مال تو چھوڑا ہے، لیکن کوئی وصیت نہیں کی، تو کیاان کی طرف سے میرا صدقہ کرناان کے گناہوں کا کفارہ بن سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3294]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1630، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8828»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1630
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3295
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ غُلَامًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَتَرَكَتْ حُلِيًّا أَفَأَتَصَدَّقُ بِهِ عَنْهَا؟ قَالَ: ( (أُمُّكَ أَمَرَتْكَ بِذَلِكَ؟) ) ، قَالَ: لَا، قَالَ: ( (فَأَمْسِكْ عَلَيْكَ حُلِيَّ أُمِّكَ) )
سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ سوال کیا: میری والدہ کچھ زیورات چھوڑ کر فوت ہو گئی ہیں، تو کیا میں یہ زیورات ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہاری والدہ نے تمہیں اس طرح کرنے کا حکم دیا تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنی ماں کے زیورات کو اپنے پاس ہی رکھو (اور صدقہ نہ کر)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3295]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ومتنه منكر، ابن لھيعة سييء الحفظ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 17/ 772، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17356، 17437 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17573»
وضاحت: فوائد: … چونکہ یہ آدمی خود زیادہ محتاج تھا، اس لیے یہ جس مال کا وارث بنا، اسے اپنے پاس رکھنے کا حکم دیا گیا۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3296
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يَاسٓ قَلْبُ الْقُرْآنِ، لَا يَقْرَؤُهَا رَجُلٌ يُرِيدُ اللَّهَ تَعَالَى وَالدَّارَ الْآخِرَةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ وَاقْرَؤُهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ) )
سیّدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ یس، قرآن کریم کا دل ہے، جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے گھر کا ارادہ کرتے ہوئے اس کی تلاوت کرتا ہے، اسے بخش دیا جاتا ہے، اور اپنے قریب الموت لوگوں پر بھی اس سورت کی تلاوت کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3296]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الرجل وأبيه أخرجه ابوداود: 3121، وابن ماجه: 1448، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20300، 20301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20566»
وضاحت: فوائد: … شریعت ِ مطہرہ کا اصل قانون یہ ہے کہ ہر کوئی اپنی نیکی اور برائی کا خود ذمہ دار ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَائَ فَعَلَیْھَا} (سورۂ فصلت: ۴۶)

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة الرجل وأبيه أخرجه ابوداود: 3121
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں