الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ مَا جَاءَ فِي بَابِ وُصُولِ ثَوَابِ الْقَرِيبِ الْمُهْدَاةِ إِلَى الْمَوْتَى
وہ اعمالِ صالحہ جن کا ثواب فوت شدگان تک پہنچتا ہے
حدیث نمبر: 3291
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) ، قَالَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ( (سَقْيُ الْمَاءِ) ) ، قَالَ: فَتِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: مَنْ يَقُولُ ’’تِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ‘‘؟ قَالَ: الْحَسَنُ
حسن کہتے ہیں کہ سیّدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہو گیا،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: میری والدہ فوت ہو گئی ہے، کیا میں اس کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: تو پھر کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانی پلانا۔ اس نے کہا: مدینہ میں یہ آل سعد کی سبیل ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے پوچھا کہ مدینہ میں یہ آل سعد کی سبیل ہے کے الفاظ کہنے والا راوی کون ہے۔ انھوں نے کہا: حسن ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3291]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابوداود: 1681، والنسائي: 6/ 255، وابن ماجه:3684، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24346»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی ماں کی طرف سے کنواں کھدوایا تھا۔
الحكم على الحديث: حسن۔ أخرجه ابوداود: 1681
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3291 in Urdu