🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. فَصْلٌ ثَالِثٌ فِي عَذَابِ عُصَاةِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْقَبْرِ وَمَا يُخَفِّفُهُ عَنْهُمْ وَإِنَّهُ أَكْثَرُهُ بِسَبَبِ التَّبَوُّلُ
گنہگار مومنوں کو قبر میں عذاب ہونے اور اس کو ہلکا کرنے والے امور کا بیان¤اور اس چیز کی وضاحت کہ یہ عذاب زیادہ پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3324
عَنْ جَسْرَةَ قَالَتْ: حَدَّثَنِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَتْ: إِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ، فَقُلْتُ: كَذَبْتِ، فَقَالَتْ: بَلَى إِنَّا لَنَقْرِضُ مِنْهُ الثَّوْبَ وَالْجِلْدَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقَدِ ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا، فَقَالَ: ( (مَا هَذِهِ؟) ) ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَتْ، فَقَالَ: ( (صَدَقَتْ) ) ، قَالَتْ: فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِئِذٍ إِلَّا قَالَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ: ( (اَللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ أَعِذْنِي مِنْ حَرِّ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہا:پیشاب کی وجہ سے قبر کا عذاب ہوتا ہے۔ میں نے کہا: تم غلط کہتی ہو، اس نے کہا: بات ایسے ہی ہے، بلکہ ہم تو اس کی وجہ سے کپڑے اور چپڑے کو بھی کاٹتے ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کی طرف نکلے اور ہماری آوازیں بلند ہو چکی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا:”یہ کیا ہے؟ میں نے اس یہودی بات کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سچ کہہ رہی ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی نماز ادا کرتے تو آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰھُمَّ رَبَّ جِبْرِیْلَ وَ مِیْکَائیِلَ (أَعِذْنِیْ مِنْ حَرِّ النَّارِ وَ عَذَابِ الْقَبْرِ۔ (اے اللہ! جبریل و میکائیل کے رب! مجھے آگ کی گرمی اور قبر کے عذاب سے محفوظ رکھنا)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3324]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة،جسرة بنت دجاجة لم يوثقھا سوي العجلي وابن حبان، وقال البخاري: عندھا عجائب، وقدامة بن عبد الله العامري روي عنه جمع وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘۔ أخرجه النسائي: 3/ 72، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24828»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف بھذه السياقة


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3324 in Urdu