🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

35. فَصْلٌ ثَالِثٌ فِي عَذَابِ عُصَاةِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْقَبْرِ وَمَا يُخَفِّفُهُ عَنْهُمْ وَإِنَّهُ أَكْثَرُهُ بِسَبَبِ التَّبَوُّلُ
گنہگار مومنوں کو قبر میں عذاب ہونے اور اس کو ہلکا کرنے والے امور کا بیان¤اور اس چیز کی وضاحت کہ یہ عذاب زیادہ پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3320
عَنْ طَاوُوسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ: ( (إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ، (قَالَ وَكِيعٌ مِنْ بَوْلِهِ) وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ) ) ، ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً فَشَقَّهَا بِنِصْفَيْنِ، فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ قَالَ: ( (لَعَلَّهُمَا أَنْ يُّخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا كَانَتَا رَطْبَتَيْنِ، [قَالَ وَكِيعٌ تَيْبَسَتَا] ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ دو قبروں کے پاس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ان دو قبر والوں کو عذاب ہو رہا ہے اور وہ کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چھڑی لی، اس کو چیر کر اس کے دو حصے بنا لیے اور ہر حصہ ایک ایک قبر پر گاڑھ دیا، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ کام کیوں کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید ان سے عذاب میں اس وقت تک تخفیف کر دی جائے، جب تک یہ خشک نہ ہو جائیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3320]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 218، 1361، ومسلم:292، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1980»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 218
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3321
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قَبْرِهِمَا فَذَكَرَهُ حَتَّى يَيْبَسَا أَوْ مَا لَمْ يَيْبَسَا
(دوسری سند) سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ کے باغات میں سے ایک باغ کے پاس سے گزرے اور قبر میں عذاب دیئے جانے والے دو انسانوں کی آوازیں سنیں، … …۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3321]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1981»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1981
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3322
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ سَيَابَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
سیّدنا یعلی بن سیابہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی روایت بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3322]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حبيب بن ابي جبيرة أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 376، والبيھقي في ’’عذاب القبر‘‘: 126، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 705، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17703»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة حبيب بن ابي جبيرة أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 376
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3323
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ (نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي وَرَجُلٌ عَنْ يَسَارِهِ فَإِذَا نَحْنُ بِقَبْرَيْنِ أَمَامَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ وَبَلَى، فَأَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِجَرِيدَةٍ) ) ، فَاسْتَبَقْنَا، فَسَبَقْتُهُ فَأَتَيْتُهُ بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا نِصْفَيْنِ فَأَلْقَى عَلَى ذَا الْقَبْرِ قِطْعَةً وَعَلَى ذَا الْقَبْرِ قِطْعَةً وَقَالَ: ( (إِنَّهُ يُهَوِّنُ عَلَيْهِمَا مَا كَانَتَا رَطْبَتَيْنِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ إِلَّا فِي الْبَوْلِ وَالْغِيبَةِ) )
سیّدناابوبکرہ نفیع بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا،جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب چل رہا تھا، اچانک دو قبریں ہمارے سامنے آ گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور انہیں یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا، البتہ (یہ گناہ ہیں کبیرہ)، تم میں سے کون آدمی چھڑی لائے گا۔)) یہ سن کر ہم دونوں لپکے، لیکن میں سبقت لے گیا اورچھڑی لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دو حصوںمیں تقسیم کر کے ایک حصہ ایک قبر پر اور دوسرا دوسری قبر پر رکھ دیا اورفرمایا: جب تک یہ تر رہیں گی، تب تک ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی اور ان کو عذاب پیشاب اور چغلی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3323]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي أخرجه ابن ماجه: 349، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20373، 20411 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20644»

الحكم على الحديث: اسناده قوي أخرجه ابن ماجه: 349
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3324
عَنْ جَسْرَةَ قَالَتْ: حَدَّثَنِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَتْ: إِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ، فَقُلْتُ: كَذَبْتِ، فَقَالَتْ: بَلَى إِنَّا لَنَقْرِضُ مِنْهُ الثَّوْبَ وَالْجِلْدَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقَدِ ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا، فَقَالَ: ( (مَا هَذِهِ؟) ) ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَتْ، فَقَالَ: ( (صَدَقَتْ) ) ، قَالَتْ: فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِئِذٍ إِلَّا قَالَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ: ( (اَللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ أَعِذْنِي مِنْ حَرِّ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہا:پیشاب کی وجہ سے قبر کا عذاب ہوتا ہے۔ میں نے کہا: تم غلط کہتی ہو، اس نے کہا: بات ایسے ہی ہے، بلکہ ہم تو اس کی وجہ سے کپڑے اور چپڑے کو بھی کاٹتے ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کی طرف نکلے اور ہماری آوازیں بلند ہو چکی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا:یہ کیا ہے؟ میں نے اس یہودی بات کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سچ کہہ رہی ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی نماز ادا کرتے تو آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰھُمَّ رَبَّ جِبْرِیْلَ وَ مِیْکَائیِلَ (أَعِذْنِیْ مِنْ حَرِّ النَّارِ وَ عَذَابِ الْقَبْرِ۔ (اے اللہ! جبریل و میکائیل کے رب! مجھے آگ کی گرمی اور قبر کے عذاب سے محفوظ رکھنا)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3324]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة،جسرة بنت دجاجة لم يوثقھا سوي العجلي وابن حبان، وقال البخاري: عندھا عجائب، وقدامة بن عبد الله العامري روي عنه جمع وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘۔ أخرجه النسائي: 3/ 72، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24828»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف بھذه السياقة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3325
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْبَوْلِ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زیادہ تر پیشاب کی وجہ سے عذابِ قبر ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3325]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابن ماجه: 348، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8331، 9033 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8313»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابن ماجه: 348
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3326
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، قَالَ: فَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَّ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ، فَجَلَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي نَفْسِهِ مِنَ الْكِبْرِ، فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، إِذَا بِقَبْرَيْنِ قَدْ دُفِنَ فِيهِمَا رَجُلَانِ، قَالَ: فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (مَنْ دَفَنْتُمْ هَا هُنَا الْيَوْمَ؟) ) ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! فُلَانٌ وَفُلَانٌ، قَالَ: ( (إِنَّهُمَا لَيَعُذَّبَانِ الْآنَ وَيُفْتَنَانِ فِي قَبْرَيْهِمَا) ) ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فِيمَ ذَلِكَ؟ قَالَ: ( (أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ) ) ، وَأَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً، فَشَقَّهَا ثُمَّ جَعَلَهَا عَلَى الْقَبْرَيْنِ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! وَلِمَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: ( (لِيُخَفَّفَنَّ عَنْهُمَا) ) ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! وَحَتَّى مَتَى يُعَذِّبُهُمَا اللَّهُ؟ قَالَ: ( (غَيْبٌ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ، وَلَوْلَا تَمْرِيغُ قُلُوبِكُمْ أَوْ تَزَايُدُكُمْ فِي الْحَدِيثِ لَسَمِعْتُمْ مَا أَسْمَعُ) )
سیّدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت گرمی والے ایک دن میں بقیع الغرقد کی جانب سے گزرے، لوگ آپ کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے جوتوں کی آہٹ سنی تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گراں گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہیں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے گزر گئے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں تکبر پیدا نہ ہو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع الغرقد کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو قبریں دیکھیں، لوگوں نے ان میں دو آدمیوں کو دفن کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں رک گئے اور پوچھا: آج تم نے یہاں کن لوگوں کو دفن کیا ہے؟ صحابہ نے بتایا: اے اللہ کے نبی! یہ فلاں دو آدمی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو اس وقت قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! انہیں عذاب دیئے جانے کی کیا وجہ ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے ایک آدمی پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تر چھڑی لے کر اسے چیرا اور دونوں قبروں پر ان کو رکھ دیا۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! آپ نے یہ کام کس لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی وجہ سے ان کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ ان کو کب تک عذاب دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ غیب کی بات ہے، جسے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے دلوں کی بدلتی کیفیات یا بہت زیادہ گفتگو نہ ہوتی تو تم بھی وہ کچھ سنتے جو میں سنتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3326]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا من اجل علي بن يزيد الالھاني أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 7869، ورواه ابن ماجه: 245 مختصرا باوله الي قوله: ’’لئلا يقع في نفسه شيء من الكبر‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22292 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22648»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف جدا من اجل علي بن يزيد الالھاني أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 7869
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3327
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ: ( (أْتُونِي بِجَرِيدَتَيْنِ) ) ، فَجَعَلَ إِحْدَاهُمَا عِنْدَ رَأْسِهِ وَالْأُخْرَى عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَقِيلَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَيَنْفَعُهُ ذَلِكَ؟ قَالَ: ( (لَنْ يَزَالَ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُ بَعْضُ عَذَابِ الْقَبْرِ مَا كَانَ فِيهِمَا نُدُوٌّ) )
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے اور فرمایا: میرے پاس دو چھڑیاں لاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کو اس کے سرہانے اور دوسری کو پائنتی کی طرف رکھ دیا، کسی نے کہا:اے اللہ کے نبی! کیا اس سے میت کو فائدہ پہنچے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تک عذابِ قبر میں کچھ تخفیف رہے گی، جب تک ان میں تری رہے گی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3327]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 376، واسحاق بن راهويه في ’’مسنده‘‘: 207، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9684»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 376
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3328
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ وَخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: فَذَكَرَا رَجُلًا مَاتَ مِنْ بَطْنِهِ، قَالَ: فَكَأَنَّمَا اشْتَهَى أَنْ يُصَلِّيَا عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: أَلَمْ يَقُلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ فَإِنَّهُ لَنْ يُعَذَّبَ فِي قَبْرِهِ؟) ) ، قَالَ الْآخَرُ: بَلَى
عبد اللہ بن یسار کہتے ہیں: میں سیّدناسلیمان بن صرد اور سیّدناخالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، لوگوں نے بتایا کہ فلاں آدمی پیٹ کی بیماری کی وجہ سے فوت ہو گیا ہے،انہوں نے اس کی نماز جنازہ ادا کرنی چاہی اور ایک نے دوسرے سے کہا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے فرمایا تھا کہ جو آدمی پیٹ کی بیماری کی وجہ فوت ہو جائے اس کو ہرگز قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا۔؟ دوسرے نے کہا: جی ہاں فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3328]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 1064، والنسائي: 4/98، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18310، 18312، 22500 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22867»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 1064
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں