الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. فَصْلٌ ثَالِثٌ فِي عَذَابِ عُصَاةِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْقَبْرِ وَمَا يُخَفِّفُهُ عَنْهُمْ وَإِنَّهُ أَكْثَرُهُ بِسَبَبِ التَّبَوُّلُ
گنہگار مومنوں کو قبر میں عذاب ہونے اور اس کو ہلکا کرنے والے امور کا بیان¤اور اس چیز کی وضاحت کہ یہ عذاب زیادہ پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے
حدیث نمبر: 3327
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ: ( (أْتُونِي بِجَرِيدَتَيْنِ) ) ، فَجَعَلَ إِحْدَاهُمَا عِنْدَ رَأْسِهِ وَالْأُخْرَى عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَقِيلَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَيَنْفَعُهُ ذَلِكَ؟ قَالَ: ( (لَنْ يَزَالَ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُ بَعْضُ عَذَابِ الْقَبْرِ مَا كَانَ فِيهِمَا نُدُوٌّ) )
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے اور فرمایا: میرے پاس دو چھڑیاں لاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کو اس کے سرہانے اور دوسری کو پائنتی کی طرف رکھ دیا، کسی نے کہا:اے اللہ کے نبی! کیا اس سے میت کو فائدہ پہنچے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تک عذابِ قبر میں کچھ تخفیف رہے گی، جب تک ان میں تری رہے گی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3327]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 376، واسحاق بن راهويه في ’’مسنده‘‘: 207، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9684»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 376
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3327 in Urdu