Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما ورد فى فضلها
زکوۃ کی فضیلت اور اس کی انواع¤زکوۃ کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3363
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي ذُو مَالٍ كَثِيرٍ وَذُو أَهْلٍ وَوَلَدٍ وَحَاضِرَةٍ، فَأَخْبِرْنِي كَيْفَ أُنْفِقُ وَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تُخْرِجُ الزَّكَاةَ مِنْ مَالِكَ، فَإِنَّهَا طُهْرَةٌ تُطَهِّرُكَ، وَتَصِلُ أَقْرِبَاءَكَ وَتَعْرِفُ حَقَّ السَّائِلِ وَالْجَارِ وَالْمِسْكِينِ))، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَقْلِلْ لِي، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا))، قَالَ: حَسْبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِذَا أَدَّيْتُ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِكَ فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْهَا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((نَعَمْ إِذَا أَدَّيْتَهَا إِلَى رَسُولِي فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْهَا، فَلَكَ أَجْرُهَا وَإِثْمُهَا عَلَى مَنْ بَدَّلَهَا))
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بنو تمیم کا ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں کافی مال دار ہوں اور میرا خاندان بھی بڑا ہے، بچے بھی ہیں اور میرے ہاں مہمان بھی بکثرت آتے ہیں، اب آپ مجھے بتائیں کہ میں مال کیسے خرچ کروں یا کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مال کی زکوۃ ادا کیا کر، یہ پاکیزہ عمل تجھے پاک کر دے گا، اسی طرح اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کیا کر اور تجھے سائل، پڑوسی اور مسکین کے حق کی بھی معرفت ہونی چاہیے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان باتوں کو میرے لیے ذرا اختصار کے ساتھ واضح کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کے حقوق ادا کر اور فضول خرچی سے بچ۔ یہ سن کر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرے لیے کافی ہے کہ جب میں آپ کے قاصد کو زکوۃ ادا کردوں تو کیا میں اللہ اور رسول کے ہاں اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو جاؤں گا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب تو میرے قاصد کو زکوۃ ادا کردے گا تو تو اس سے بری ہو جائے گا اور تجھے اس کا اجر مل جا ئے گا، ہاں جو اس کو (ناجائز انداز میں) تبدیل کر دے گا تو اس کا گناہ اسی پر ہی ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3363]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، لكن قيل في رواية سعيد بن ابي ھلال عن انس: انھا مرسلة أخرجه الحاكم: 2/ 360، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12394 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12421»
وضاحت: فوائد:اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی آدمی خلیفۂ وقت یا اس کے قاصد کو زکوۃ دے دے تو وہ اس فرض سے بریٔ الذمہ ہو جائے گا، اگر خلافِ توقع ایسا ذمہ دار خیانت کرتا ہے تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہو گا، زکوۃ دینے والے اللہ تعالیٰ کے ہاں ماجور ہو گا۔ لیکن یہ اصول اس وقت ہے جب قاصد وغیرہ کی امانت کے بارے میں حسنِ ظن ہو، وگرنہ استطاعت کے مطابق مالدار کو چاہیے کہ وہ اپنی زکوۃ کی رقم خود مستحق لوگوں تک پہنچا دے، اس کی مزید وضاحت باب زکوۃ کے عامل کو زکوۃ دے دینے سے مالک بریٔ الذمہ ہو جاتا ہے، خواہ وہ نمائندہ اس میں جائز تصرف کرے میں آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح