الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب افتراض الزكاة والحث عليها والتشديد فى منعها
زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 3369
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا (فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ ثُمَّ قَالَ) وَلَا صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ إِلَّا جِيءَ بِكَنْزِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ، يَتْبَعُهُ فَاغِرًا فَاهُ، فَإِذَا رَآهُ فَرَّ مِنْهُ فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ خُذْ كَنْزَكَ الَّذِي خَبَأْتَهُ فَأَنَا عَنْهُ أَغْنَى مِنْكَ، فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ سَلَكَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَقَضَمَهَا قَضْمَ الْفَحْلِ) ) ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا حَقُّ الْإِبِلِ؟ قَالَ: ( (حَلْبُهَا عَلَى الْمَاءِ، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا، وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنِيحَتُهَا، وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ) ) ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِيهَا كُلِّهَا وَقَعَدَ لَهَا، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِيهِ، قَالَ أَبُو الزَّبِيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ، ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرًا الْأَنْصَارِيَّ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اونٹوں کا مالک ہو اور ان کا حق ادا نہ کرتا ہو، … (اونٹ، گائے اور بکری کی زکوۃ کے بارے میں جو تفصیل گزر چکی ہے، وہی یہاں ذکر کی، پھر فرمایا:) جو خزانے کا مالک ہو اور اس میں سے اس کا حق ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن اس کا خزانہ ایک گنجے سانپ کی صورت میں منہ کھولے ہوئے آئے گا اور اپنے مالک کا پیچھا کرے گا، مالک اسے دیکھ کربھاگنا شروع کر دے گا، لیکن اس کا رب اسے آواز دے گا: یہ تیرا وہی خزانہ ہے جسے تو نے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا، اسے اب لے لے، میں تیری بہ نسبت اس سے زیادہ غنی ہوں۔ جب وہ آدمی دیکھے گا کہ اس کے بچاؤ کی کوئی صورت نہیں تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈال دے گا اور وہ سانپ اس کے ہاتھ کو اونٹ کی طرح چبانا شروع کر دے گا۔“ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا:”پانی کے پاس اس کو دوہنا، اس کا ڈول عاریۃ دینا، جفتی کے لیے نر اونٹ کو عاریۃ دینا، دودھ والی عاریۃ دے دینا اور اللہ کی راہ میں اونٹوں پر سوار کرنا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3369]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم988، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14442 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14496»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم988
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3369 in Urdu