الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ افْتِرَاضِ الزَّكَاةِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا وَالتَّشْدِيدِ فِي مَنْعِهَا
زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 3370
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ، يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ أَنَا كَنْزُكَ) ) ، ثُمَّ تَلَى هَذِهِ الْآيَةَ: {وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ} الْخَ الْآيَةَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جس آدمی کو مال دیا ہو اور وہ اس کی زکوۃ ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن اس کے لیے اس کے مال کو گنجے سانپ کی شکل دی جائے گی،اس (کی آنکھوں) پر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ قیامت کے دن اپنے مالک کے جبڑوں کو پکڑ کر کہے گامیں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَا آتَاہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ھُوَ خَیْرًا لَّھُمْ بَلْ ھُوَ شَرٌّلَّھُمْ سُیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ} (سورۂ آل عمران۱۸۰) یعنی اور جو لوگ اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے بخل کرتے ہیں وہ اسے اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں، وہ تو ان کے حق میں بہت ہی برا ہے، وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اسی کو اس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا، زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو وہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3370]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1403، 4565، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8646»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1403
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3370 in Urdu