الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب افتراض الزكاة والحث عليها والتشديد فى منعها
زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 3372
عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا يَأْتِي رَجُلٌ مَوْلَاهُ فَيَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلٍ هُوَ عِنْدَهُ فَيَمْنَعُهُ إِلَّا دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ يَتَلَمَّظُ فَضْلُهُ الَّذِي مَنَعَهُ (وَفِي رِوَايَةٍ:) مَا مِنْ مَوْلَى يَأْتِي مَوْلَى لَهُ فَيَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلٍ عِنْدَهُ فَيَمْنَعُهُ إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ شُجَاعًا يَنْهَشُهُ قَبْلَ الْقَضَاءِ) )
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو آدمی اپنے رشتہ دار کے پاس آکر اس سے ایسی چیز کا سوال کرتا ہے جو اس کی ضرورت سے زائد ہو، لیکن وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اس مالک کے لیے ایک سانپ بلایا جائے گا جو اپنی زبان کو ہلاتا ہوگا، یہ (سانپ) اسی کا زائد مال ہو گا، جو اس نے مانگنے والے کو نہیں دیا تھا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: جو رشتہ دار اپنے کسی رشتہ دار سے زائد چیز کا سوال کرتا ہے اور وہ اسے نہیں دیتا تو اللہ تعالیٰ ایسے مال کو اس کے لیے سانپ بنا دے گا، جو قیامت کے دن فیصلہ مکمل ہونے تک اسے ڈستا رہے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3372]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن أخرجه ابوداود باثر الحديث: 5139، والنسائي: 5/ 82، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20020، 20032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20285»
وضاحت: فوائد: لیکن صورتحال یہ ہے کہ مالدار لوگوں کی اولین ترجیح یہ ہوتی ہے کہ وہ غریب رشتہ داروں سے دور ہو جائیں، اس مقصد کے حصول کے لیے وہ ان کو زکوۃ دینے سے بھی گریز کرتے ہیں، جبکہ اس حدیث ِ مبارکہ کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے رشتہ دار محتاج کی ضرورت پوری کر دی جائے۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن أخرجه ابوداود باثر الحديث: 5139
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3372 in Urdu