الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب افتراض الزكاة والحث عليها والتشديد فى منعها
زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 3373
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَمْنَعُ عَبْدٌ زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جُعِلَ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَتْبَعُهُ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ، فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ) ) ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ مِصْدَاقَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ}، قَالَ سُفْيَانُ، مَرَّةً يُطَوَّقُهُ فِي عُنُقِهِ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے مال کی زکوۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کے مال کو گنجے سانپ کی شکل دی جائے گی اور وہ اپنے مالک کا پیچھا کرے گا، یہ اس سے بچنے کے لیے بھاگے گا، لیکن وہ سانپ یہ کہتے ہوئے اس کا پیچھا کرتا رہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کتاب اللہ سے اس حدیث کی مصداق آیت تلاوت کی: {سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔} (سورۂ آل عمران، ۱۸۰) یعنی: یہ لوگ جو بخل کرتے رہے، عنقریب قیامت کے دن ان کی گردنوں میں اس کا طوق پہنا دیا جائے گا۔ امام سفیان نے ایک دفعہ کہا: ان کی گردن میں طوق پہنایا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3373]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 3012، والنسائي 5/ 11، وابن ماجه: 1784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3577 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3577»
وضاحت: فوائد: بخل سے مراد زکوۃ کی عدم ادائیگی ہے، جیسا کہ سابقہ حدیث سے معلوم ہو رہا ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 3012
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3373 in Urdu