الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب زكاة البقر وما جاء فى الوقص
گائے اور وقص کی زکوۃ کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 3389
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَدَقَةِ الْبَقَرِ إِذَا بَلَغَ الْبَقَرُ ثَلَاثِينَ فِيهَا تَبِيعٌ مِنَ الْبَقَرِ جَذَعٌ أَوْ جَذَعَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا بَقَرَةٌ مُسِنَّةٌ، فَإِذَا كَثُرَتْ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مِنَ الْبَقَرِ بَقَرَةٌ مُسِنَّةٌ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گائے کی زکوۃ کے بارے میں یہ لکھوایا کہ جب وہ تیس ہو جائیں تو ان میں ایک سال کا بچھڑا یا بچھڑی فرض ہو گی اور جب ان کی تعداد چالیس ہو جائے تو ان میں دو دانتا جانور فرض ہو جائے گا، جب تعداد اس سے بھی بڑھ جائے تو ہر چالیس گائیوں میں ایک دو دانتا جانور ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3389]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره أخرجه مختصرا الترمذي: 622، وابن ماجه: 1804، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3905»
الحكم على الحديث: صحیح