الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ جَوَازِ قَبُولِ الْعَطَاءِ إِذَا كَانَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ - وَسُؤَالِ الصَّالِحِينَ إِنْ كَانَ وَلَا
اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو¤تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
حدیث نمبر: 3542
عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنِ ارْفَعْ إِلَيَّ حَاجَتَكَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (ابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى) ) وَإِنِّي لَا أَحْسِبُ الْيَدَ الْعُلْيَا الْمُعْطِيَةَ وَالسُّفْلَى السَّائِلَةَ، وَإِنِّي غَيْرُ سَائِلِكَ شَيْئًا وَلَا رَادٌّ رِزْقًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيَّ مِنْكَ
۔ قعقاع بن حکیم کہتے ہیں کہ عبد العزیز بن مروان نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف یہ لکھ کر بھیجا کہ ان کی کوئی ضرورت ہو تو وہ پیش کریں۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: خرچ کرتے وقت اپنے زیر کفالت افراد سے ابتدا کیا کرو اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اوپر والا ہاتھ دینے والا ہے اور نیچےوالا سوال کرنے والا ہے، لہذا میں آپ سے کچھ نہیں مانگتا اور اگر اللہ تعالیٰ آپ کی طرف سے مجھے کوئی چیز بھجوا دے تو اسے واپس نہیں کروں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3542]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه بلفظ المرفوع منه فقط البخاري: 1429، ومسلم: 1033 وأخرجه بتمامه ابويعلي: 5740، والبيھقي في ’’الشعب‘‘: 3549، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6402»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه بلفظ المرفوع منه فقط البخاري: 1429
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3542 in Urdu