الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ جَوَازِ قَبُولِ الْعَطَاءِ إِذَا كَانَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ - وَسُؤَالِ الصَّالِحِينَ إِنْ كَانَ وَلَا
اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو¤تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
حدیث نمبر: 3543
عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ أَنَّ الْفِرَاسِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَسْأَلُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: لَا، وَإِنْ كُنْتَ سَائِلًا لَا بُدَّ فَاسْأَلِ الصَّالِحِينَ
۔ ابن فراسی سے روایت ہے کہ سیدنا فراسی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: کیا میں مانگ سکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر سوال کیے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو تو نیک لوگوں سے سوال کر لیا کر۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3543]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لجھالة مسلم بن مخشي وابن الفراسي۔ اخرجه ابوداود: 1646، والنسائي: 5/ 95، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19153»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۳۵۲۸) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ آدمی حکمرانوں سے سوال کرسکتا ہے اور اشد ضرورت میں، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو، ہر خاص و عام سے سوال کر سکتا ہے، بہرحال مختلف مزاجوں کو دیکھ کر بعض لوگوں سے بچ کر بعض کو ترجیح دی جا سکتی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے در کا محتاج رکھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3543 in Urdu