یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. الباب الأول فى طهورية ماء البحر وماء البئر
سمندر اور کنویں کے پانی کے طاہر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 356
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ الْكِنَانِيِّ أَنَّ بَعْضَ بَنِي مُدْلِجٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ كَانُوا يَرْكَبُونَ الْأَرْمَاثَ فِي الْبَحْرِ لِلصَّيْدِ فَيَحْمِلُونَ مَعَهُمْ مَاءً لِلسَّقَايَةِ فَتُدْرِكُهُمُ الصَّلَاةُ وَهُمْ فِي الْبَحْرِ وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَائِنَا عَطِشْنَا وَإِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَاءِ الْبَحْرِ وَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، فَقَالَ لَهُمْ: ( (هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ) )
عبداللہ بن مغیرہ کنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بنو مدلج کے بعض افراد نے اس کو بتلایا ہے کہ وہ لوگ شکار کرنے کے لیے تختوں پر سمندر میں جاتے تھے اور پینے کے لیے اپنے ساتھ پانی لے جاتے تھے، لیکن ان کی نماز کا وقت بھی سمندر میں ہی ہو جاتا تھا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ صورتحال بیان کی اور کہا: ”اگر ہم اپنے ساتھ اٹھائے ہوئے پانی سے وضو کریں تو پیاس لگتی ہے اور اگر سمندر کے پانی سے وضو کریں تو دل میں شک سا رہتا ہے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 356]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 130، والحاكم: 1/ 141، عبد الرزاق: 321، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23484»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 356 in Urdu