الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. بَابُ أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
حدیث نمبر: 3595
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ( (جُهْدُ الْمُقِلِّ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: میں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! کونسا صدقہ سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کم سرمائے والے آدمی کی محنت کا صدقہ افضل ہے اور جن افراد کی کفالت کا توذمہ دار ہے، (مال خرچ کرنے کے سلسلے میں) ان کے ساتھ ابتدا کیا کر۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3595]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8702 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8687»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا} (سورۂ ملک: ۲) یعنی: ”اس اللہ) نے موت و حیات کا (نظام) پیدا کیا تاکہ تم (انسانوں) کو آزمائے کہ تم میں کون ہے جو اچھے عمل کرے گا۔“
بڑی شاندار حدیث ِ مبارکہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَبَقَ دِرْھَمٌ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ۔)) قَالُوْا: وَکَیْفَ؟ قَالَ: ((لِرَجُلٍ دِرْہَمَانِ تَصَدَّقَ بِاَحَدِھِمَا وَانْطَلَقَ رَجُلٌ اِلٰی عَرْضِ مَالٍ فَأَخَذَ مِنْہُ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ فَتَصَدَّقَ بِہٖ۔)) … ایک درہم، ایک لاکھ درہم سے سبقت لے گیا۔“ صحابہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی کے پاس دو درہم تھے، اس نے ایک درہم صدقہ کر دیا اور ایک آدمی اپنے بڑی مقدار والے مال کی طرف گیا اور اس میں سے ایک لاکھ درہم صدقہ کیا۔“ (نسائی: ۲۵۲۷) دراصل اللہ تعالیٰ کی قدردان نگاہ سب سے پہلے عمل کے حسن پر پڑتی ہے اور پھر عمل کی کثرت پر، ایک غریب آدمی نے محنت و مشقت کر کے معمولی مقدار میں مال و دولت اکٹھا کیا اور بمشکل اپنے اخراجات پورے کر کے اس کی انتہائی معمولی مقدار اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس تڑپ سے خرچ کی کہ اس کا نام بھی صدقہ کرنے والوں کی فہرست میں آجائے۔ ایسے آدمی کے عمل کی قدر بہرحال ایک امیر زادے کے عمل سے زیادہ ہے، جو نعمتوں کی فراوانیوں کے ماحول میں پالاپوسا گیا ہو اور وہ اپنی آمدن کا کچھ حصہ اللہ تعالیٰکے راستے میں خرچ کر دے۔
بڑی شاندار حدیث ِ مبارکہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَبَقَ دِرْھَمٌ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ۔)) قَالُوْا: وَکَیْفَ؟ قَالَ: ((لِرَجُلٍ دِرْہَمَانِ تَصَدَّقَ بِاَحَدِھِمَا وَانْطَلَقَ رَجُلٌ اِلٰی عَرْضِ مَالٍ فَأَخَذَ مِنْہُ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ فَتَصَدَّقَ بِہٖ۔)) … ایک درہم، ایک لاکھ درہم سے سبقت لے گیا۔“ صحابہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی کے پاس دو درہم تھے، اس نے ایک درہم صدقہ کر دیا اور ایک آدمی اپنے بڑی مقدار والے مال کی طرف گیا اور اس میں سے ایک لاکھ درہم صدقہ کیا۔“ (نسائی: ۲۵۲۷) دراصل اللہ تعالیٰ کی قدردان نگاہ سب سے پہلے عمل کے حسن پر پڑتی ہے اور پھر عمل کی کثرت پر، ایک غریب آدمی نے محنت و مشقت کر کے معمولی مقدار میں مال و دولت اکٹھا کیا اور بمشکل اپنے اخراجات پورے کر کے اس کی انتہائی معمولی مقدار اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس تڑپ سے خرچ کی کہ اس کا نام بھی صدقہ کرنے والوں کی فہرست میں آجائے۔ ایسے آدمی کے عمل کی قدر بہرحال ایک امیر زادے کے عمل سے زیادہ ہے، جو نعمتوں کی فراوانیوں کے ماحول میں پالاپوسا گیا ہو اور وہ اپنی آمدن کا کچھ حصہ اللہ تعالیٰکے راستے میں خرچ کر دے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1677
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3595 in Urdu