الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. الْمَنِيحَةُ
عاریۃً دی ہوئی چیزکا بیان
حدیث نمبر: 3596
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَتَدْرُونَ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟) ) قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ( (الْمَنِيحَةُ، أَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الدِّرْهَمَ أَوْ ظَهْرَ الدَّابَّةِ أَوْ لَبَنَ الشَّاةِ أَوْ لَبَنَ الْبَقَرَةِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ سب سے افضل صدقہ کونسا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی کو کوئی چیز عاریۃً دے دینا، مثلاً تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کو درہم یا سواری یا بکری کا دودھ یا گائے کا دودھ دے دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3596]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابويعلي: 5121، والبزار: 947، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4415 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4415»
وضاحت: فوائد: … کوئی چیز عاریۃً دینے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو کچھ عرصہ کے لیے کوئی چیز اس نیت سے دی جائے کہ وہ یہ اس عرصہ میں اس کی منفعت سے فائدہ اٹھاتا رہے، جیسے دودھ کے لیے جانور، کھیتی باڑی کرنے کے لیے زمین، پھل کے لیے پھلدار درخت اور سواری کے لیے سواری والا جانور عارضی طور پر دینا۔ اس سے مستقل دی ہوئی چیز کی اہمیت کا اندازہ لگالینا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ اخرجه ابويعلي: 5121
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3596 in Urdu