الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. بَابُ مَنْ تَصَدَّقَ بِعُشْرِ مَالِهِ وَمَنْ تَصَدَّقَ بِثُلُثِهِ وَمَنْ تَصَدَّقَ بِنَاقَةٍ
مال کا دسویں حصے، ایک تہائی حصے اور ایک اونٹنی کے صدقے کا بیان
حدیث نمبر: 3616
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَانَتْ لِي مِائَةُ دِينَارٍ فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، وَقَالَ الْآخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَانَتْ لِي عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِدِينَارٍ، وَقَالَ الْآخَرُ: كَانَ لِي دِينَارٌ فَتَصَدَّقْتُ بِعُشْرِهِ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (كُلُّكُمْ فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ كُلُّكُمْ تَصَدَّقَ بِعُشْرِ مَالِهِ) )
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سو دینار تھے اور میں نے ان میں سے دس دینار صدقہ کر دیئے، دوسرے نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس دس دینار تھے، میں نے ان میں سے ایک دینار صدقہ کر دیا۔ تیسرے نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار تھا، میں نے اس کا دسواں حصہ صدقہ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی باتیں سن کر فرمایا: ثواب کے لحاظ سے تم سب برابر ہو، کیونکہ تم میں سے ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ صدقہ کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3616]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف ثوير بن ابي فاخته۔ اخرجه البزار: 775، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 743»
وضاحت: فوائد: … معنوی اعتبار سے اس حدیث ِ مبارکہ میں بیان شدہ مسئلہ درست ہے، کئی احادیث میں کم سرمائے والے آدمی کے معمولی مقدار کے صدقہ کو افضل قرار دیا گیا ہے، درج ذیل حدیث ِ مبارکہ بھی اسی حقیقت کی غماز ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَبَقَ دِرْھَمٌ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ۔)) قَالُوْا: وَکَیْفَ؟ قَالَ: ((لِرَجُلٍ دِرْہَمَانِ تَصَدَّقَ بِاَحَدِھِمَا وَانْطَلَقَ رَجُلٌ اِلٰی عَرْضِ مَالٍ فَأَخَذَ مِنْہُ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ فَتَصَدَّقَ بِہٖ۔)) … ایک درہم، ایک لاکھ درہم سے سبقت لے گیا۔“ صحابہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی کے پاس دو درہم تھے، اس نے ایک درہم صدقہ کر دیا اور ایک آدمی اپنے بڑی مقدار والے مال کی طرف گیا اور اس میں سے ایک لاکھ درہم صدقہ کیا۔“ (نسائی: ۲۵۲۷) معلوم ہوا کہ فقیر اور کم سرمائے والے آدمی کو بھی اپنی حیثیت کے مطابق اس کارِ خیر میں حصہ لینا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3616 in Urdu