🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. بَابُ مَنْ تَصَدَّقَ بِعُشْرِ مَالِهِ وَمَنْ تَصَدَّقَ بِثُلُثِهِ وَمَنْ تَصَدَّقَ بِنَاقَةٍ
مال کا دسویں حصے، ایک تہائی حصے اور ایک اونٹنی کے صدقے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3617
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي وَأُسَاكِنَكَ وَأَنْ أَنْخَلَعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ) )
۔ سیدنا ابولبابہ بن عبد المنذر سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ قبول ہو نے کا تقاضا یہ ہے کہ میں اپنی قوم کا گھر چھوڑ دوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہوں اور اپنا تمام مال اللہ اور اس کے رسول کے لئے صدقہ کردوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک تہائی مال صدقہ کر دینا تجھے کفایت کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3617]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحسين بن السائب، روي عنه اثنان، وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘۔ اخرجه ابوداود: 3319، 3320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16178»
وضاحت: فوائد: … جب سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی توبہ قبول ہوئی تھی تو انھوں نے بھی سارے مال کا صدقہ کرنے کا اظہار کیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقدار کو کم کرنے کی ترغیب دی تھی، پھر ان کی بات مال کی ایک تہائی مقدار کو صدقہ کرنے پر طے ہوئی تھی۔ (ملاحظہ ہو: بخاری: ۴۴۱۸، مسلم: ۲۷۶۹، ابوداود: ۳۳۲۱) زندگی میں نصف، دوتہائی بلکہ سارا مال بھی صدقہ کر دینا درست ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ صدقہ وصول کرنے والا حاکم یا اس کا مسئول حکیم، دانا اور عاقبت اندیش ہو، وہ یہ سمجھتا ہو کہ اس آدمی کا مزاج کیسا ہے، یہ بڑی مقدار میں صدقہ کرنے پر کیوں آمادہ ہو گیا ہے، بظاہر اس کے حق میں اس کا کیا انجام ہو گا، اس کے بعد اس کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے، یہ کتنے اور کون کون سے لوگوں کا کفیل ہے، اِن چیزوں کو مدنظر رکھ کر حاکم خود ایک مقدار کا فیصلہ کر سکتاہے۔
مال خرچ کرنے والے کو اپنے ورثاء کا لحاظ رکھنا چاہیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے ورثاء کو مالدار حالت میں چھوڑے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو اس طرح چھوڑے کہ وہ تنگ دست اور فقیر ہوں۔ اور وہ لوگوں کے آگے دست سوال دراز کریں۔(بخاری: ۲۷۴۲، مسلم: ۱۶۲۸)
آپ نے یہ بھی فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد بھی آدمی کے پاس مال باقی رہے۔ (بخاری: ۱۴۲۶)
صدقہ وصول کرنے والے کو بھی مال خرچ کرنے والے کے حالات کو سامنے رکھ کر اچھا مشورہ دینا چاہیے جیسا کہ صاحب فوائد فاضل بھائی نے بھی آگے لکھا ہے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے واقعہ (ترمذی: ۳۶۷۵)
سے سارا مال خرچ کرنے کا استدلال کرتے ہیں لیکن اس میں یہ ہے کہ انہوں نے گھر میں موجود سارا مال پیش کیا تھا نہ کہ گھر سمیت تمام جائیداد پیش کی تھی۔ اس لیے سارا مال خرچ کی کوئی دلیل نہیں ہے، اس سے بچنا چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3617 in Urdu