الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب فضل صيام رمضان وقيامه
رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3661
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، يُصَلِّي الْخَمْسَ وَيَصُومُ رَمَضَانَ غُفِرَ لَهُ) ) ، قُلْتُ: أَفَلَا أُبَشِّرُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ!? قَالَ: ( (دَعْهُمْ يَعْمَلُوا) )
۔ سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں اللہ تعالیٰ کو ملتا ہے کہ اس نے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایاہوتا اور پانچ نمازوں کا پابند ہوتا ہے اور اور ماہِ رمضان کے روزے بھی رکھتا ہے تواس کو بخش دیا جاتا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو یہ بیان کر کے خوشخبری نہ دے دوں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھوڑدو ان کو، تاکہ وہ عمل کرتے رہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3661]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22378»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہوا کہ مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ عبادات کی اپنی مخصوص عادت کو اپنے حق میں کافی سمجھنے لگے، دیکھیں اگر ایک آدمی اس حدیث کو سامنے رکھ کرمشرف باسلام ہوتا ہے، نماز ادا کرتا ہے اور رمضان کے روزے رکھتا ہے، اس کو بخش دیا جاتا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حدیث لوگوں کو بیان کرنے سے روک دیا، تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ ان تین اعمال کے ہی ہو کر رہ جائیں اورمزید کوئی عمل نہ کریں۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3661 in Urdu