🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب وقت السحور واستحباب تأخيره
سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3730
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ (الطَّائِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ، قَالَ: ( (صَلِّ كَذَا وَكَذَا وَصُمْ، فَإِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ فَكُلْ وَاشْرَبْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكَ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ، وَصُمْ ثَلَاثِينَ يَوْمًا إِلَّا أَنْ تَرَى الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ) ) ، فَأَخَذْتُ خَيْطَيْنِ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ وَأَبْيَضَ، فَكُنْتُ أَنْظُرُ فِيهِمَا فَلَا يَتَبَيَّنُ لِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ وَقَالَ: ( (يَا ابْنَ حَاتِمٍ إِنَّمَا ذَكَ بَيَاضُ النَّهَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّيْلِ) )
۔ سیدنا عدی بن حاتم طائی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نماز اور روزہ کی تعلیم دی، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فلاں فلاں نماز پڑھا کرو اور (اس طرح) روزے رکھا کرو، جب سورج غروب ہو جائے تو (ساری رات) کھاپی سکتے ہو، یہاں تک کہ سفید دھاگہ، سیاہ دھاگے سے ممتاز ہو جائے اور (رمضان کے) پورے تیس روزے رکھا کرو، الّا یہ کہ چاند اس سے پہلے نظرآجائے۔ پس میں نے ایک سیاہ اور ایک سفید دھاگہ لیا اور(سحری کے وقت) ان کی طرف دیکھنے لگا، لیکن وہ میرے لیے واضح نہیں ہو رہے تھے، اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر مسکرا پڑے اور فرمایا: سفید دھاگے سے مراد (طلوع فجر کے وقت) دن کی سفیدی کا رات کی سیاہی سے ممتاز ہونا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3730]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه الترمذي: 2970، 2971، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19593»
وضاحت: فوائد: … مسند احمد کی ایک روایت اس طرح ہے: سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہے: جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ} (اور سحری کے وقت کھاؤ اور پیو،یہاں تک کہ سیاہ دھاگے سے سفید دھاگہ واضح ہو جائے)(سورۂ بقرہ: ۱۸۷) تو میں نے دو رسیاں لیں، ایک سیاہ تھی اور دوسری سفید، میں نے ان کو اپنے تکیے کے نیچے رکھا، پھر ان کو دیکھنے لگا، لیکن نہ تو میرے لیے سفید سے سیاہ رسی اور نہ سیاہ سے سفید رسی واضح ہو رہی تھی، جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے کیے کے بارے میں بتلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنْ کَانَ وِسَادُکَ لَعَرِیضًا، اِنَّمَا ذَالِکَ بَیَاضُ النَّھَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّیْلِ)) تیرا تکیہ تو پھر بڑا وسیع ہوا، ارے اس سے مراد تو رات کی سیاہی سے دن کی سفیدی کا واضح ہونا ہے۔ اس کو امام بخاری(۱۹۱۶) اور امام مسلم (۱۰۹۰) نے بھی روایت کیا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آیات ِ قرآنی اور احادیث ِ نبوی کو سمجھنے کیلئے صرف عقل کافی نہیں ہے، بلکہ دوسری آیات و احادیث کی طرف رجوع کرنا بھی ضروری ہے۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ اخرجه الترمذي: 2970


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3730 in Urdu