🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب وقت السحور واستحباب تأخيره
سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3731
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبِيتَ عِنْدَكَ اللَّيْلَةَ فَأُصَلِّي بِصَلَاتِكَ، قَالَ: ( (لَا تَسْتَطِيعُ صَلَاتِي) ) ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ فَيُسْتَرُ بِثَوْبٍ وَأَنَا مَحَوَّلٌ عَنْهُ، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ فَعَلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَقُمْتُ مَعَهُ حَتَّى جَعَلْتُ أَضْرِبُ بِرَأْسِي الْجُدْرَانَ مِنْ طُولِ صَلَاتِهِ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ لِلصَّلَاةِ فَقَالَ: ( (أَفَعَلْتَ؟) ) ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ( (يَا بِلَالُ! إِنَّكَ لَتُؤَذِّنُ إِذَا كَانَ الصُّبْحُ سَاطِعًا فِي السَّمَاءِ وَلَيْسَ ذَلِكَ الصُّبْحُ، إِنَّمَا الصُّبْحُ هَكَذَا مُعْتَرِضًا) ) ، ثُمَّ دَعَا بِسَحُورٍ فَتَسَحَّرَ
۔ سیدناابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میں آج رات آپ کے ہاں بسر کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں رات کی نماز پڑھ سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے والی نماز کی استطاعت نہیں رکھتے۔ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اور کپڑے کی اوٹ میں غسل کیا، جبکہ میرا رخ دوسری جانب تھا، پھر میں نے بھی اسی طرح کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز شروع کر دی، (اور اتنا لمبا قیام کیا کہ) میں (تھکاوٹ یا نیند کے غلبہ کی وجہ) سے اپنا سر دیوار پر مارتا تھا،پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اذان کہی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اذان دے چکے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال! تم جس وقت اذان کہتے ہو اس وقت روشنی آسمان کی طرف سیدھی جا رہی ہوتی ہے اوراس وقت صبح صادق نہیں ہوتی، صبح صادق تو اس وقت ہوتی ہے کہ جب روشنی (افق کے کناروں پر) پھیلتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا منگوا کر سحری کھائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3731]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، رشدين بن سعد ضعيف، وسليمان بن ابي عثمان و حاتم بن ابي عدي مجھولان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21835»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقعی طویل قیام کرتے تھے اور فجر کی بھی دو ہی اقسام ہیں: فجر کاذب اور فجر صادق۔ نمازِ فجر اور روزہ کے وقت کی ابتدا فجر صادق سے ہوتی ہے، فجر کاذب تو رات کا ہی حصہ ہے، جس میں سحری کرنا جائز ہوتا ہے اور نماز فجر ادا کرنا حرام، درج ذیل دو احادیث میں ان دو اقسام کی وضاحت کی گئی ہے۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الْفَجْرُ فَجْرَانِ، فَجْرٌ یُقَالُ لَہُ: ذَنَبُ السَّرْحَانِ، وَھُوَ الْکَاذِبُ یَذْھَبُ طُوْلاً، وَلَا یَذْھَبُ عَرْضاً، وَالْفَجْرُ الآخَرُ یَذْھَبُ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الْفَجْرُ فَجْرَانِ: فَجْرٌ یَحْرُمُ فِیْہِ الطَّعَامُ، وَتَحِلُّ فِیْہِ الصَّلَاۃُ، وَفَجْرٌ تَحُرُمُ فِیْہِ الصَّلَاۃُ، وَیَحِلُّ فِیْہِ الطَّعاَمُ۔)) فجر کی دوقسمیں ہیں:(۱) فجر (صادق) ہے، جس میں(سحری کا کھانا) کھانا حرام ہوتا ہے اور نمازِ (فجر) پڑھنا درست ہوتا ہے اور (۲) فجرِ (کاذب) ہے، جس میں نمازِ (فجر) کی ادائیگی حرام ہوتی ہے اور (سحری کا کھانا) کھانا درست ہوتا ہے۔ (صحیح ابن خزیمۃ: ۱/۵۲/۲، حاکم: ۱/۴۲۵، بیہقی: ۱/۳۷۷، ۴۵۷، ۴/۲۱۶،صحیحہ:۶۹۳)

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3731 in Urdu