الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب وقت السحور واستحباب تأخيره
سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3734
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ: قُلْتُ لِحُذَيْفَةَ: أَيُّ سَاعَةٍ تَسَحَّرْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ
۔ (دوسری سند) عاصم نے کہا: میں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کس وقت سحری کھائی تھی؟ انہوں نے کہا: بس دن ہو چکا تھا، البتہ سورج طلوع نہ ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3734]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23792»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کی سندوں میں کچھ کلام ہے، بہرحال ان کے ظاہری مفہوم کا ادراک نہیں کیا جا رہا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
ممکن ہے کہ سحری کے آخری وقت کھانے کو مبالغہ اس انداز سے بیان کر دیا ہو کہ بس سمجھو کہ سورج ہی چڑھ چکا تھا جبکہ حقیقت میں سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔ (عبداللہ رفیق)
ممکن ہے کہ سحری کے آخری وقت کھانے کو مبالغہ اس انداز سے بیان کر دیا ہو کہ بس سمجھو کہ سورج ہی چڑھ چکا تھا جبکہ حقیقت میں سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23792
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3734 in Urdu