🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب وقت السحور واستحباب تأخيره
سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3735
عَنْ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُؤَذِّنُهُ بِالصَّلَاةِ قَالَ: أَبُو أَحْمَدَ، وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ فَدَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ وَسَقَانِي، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ لِلصَّلَاةِ فَقَامَ يُصَلِّي بِغَيْرِ وَضُوءٍ يُرِيدُ الصَّوْمَ
۔ سیدنابلال بن رباح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جبکہ آپ کا روزہ رکھنے کا ارادہ تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیالہ منگوا کر خود بھی پیا اور مجھے بھی پلایا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور وضو کے بغیر نماز پڑھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کا ارادہ رکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3735]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، الا ان عبد الله بن معقل المزني لايعرف له سماع من بلال۔ اخرجه الطبراني: 1082، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23889 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24386»
وضاحت: فوائد: … وضو کے بغیر نماز پڑھنا، یہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا اپنا فہم ہے، وگرنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یا تو سونے سے پہلے وضو کیا ہوا ہو گا، جبکہ نیند سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو متأثر نہیں ہو تاتھا، یا ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیدار ہونے کے بعد وضو کیا ہو، لیکن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اس کا پتہ نہ چل سکا ہو۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ روزے کی ابتداء و انتہاء سے متعلقہ انتہائی واضح احکام موجود ہیں، ان کی روشنی میں ہی اس قسم کی احادیث کی تاویل کی جائے گی، مثلاً اِس حدیث کییہ تاویل ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ رکھنے کا قصد رکھتے ہوں، لیکن وقت پر بیدار نہ ہو سکے ہوں، اس لیے جب آنکھ کھلی تو چونکہ وقت ختم ہو چکا تھا، لیکن اس رخصت سے مستفید ہوتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختصر سی سحری کھالی، جس رخصت کا ذکر حدیث نمبر (۳۷۳۷) اور اس کے فوائد میں کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

الحكم على الحديث: رجاله ثقات رجال الشيخين


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3735 in Urdu