الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. فصل منه فى صفة الفجر الصادق والفجر الكاذب وما جاء فى أذان بلال وابن أم
صبح صادق اور کاذب کی کیفیت اور سیدنا بلال اور سیدنا ام مکتوم رضی اللہ عنہما کی اذانوں کا بیان
حدیث نمبر: 3741
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَمْنَعُكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنَ السَّحُورِ، فَإِنَّ فِي بَصَرِهِ شَيْئًا) )
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ کی اذان تمہیں سحری سے نہ روکے، کیونکہ ان کی نظر میں کچھ خلل ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3741]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 9، والبزار: 982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12428 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12455»
وضاحت: فوائد: … ”کیونکہ اس کی نظر میں کچھ خلل ہے۔“ اس وجہ کااذانِ بلالی کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس وجہ کا تعلق سیدنابلال رضی اللہ عنہ کو سحری والی اذان کا ذمہ دار بنانے سے ہے، کیونکہ جب وہ طلوعِ فجر کے بعد والی اذان دیتے تھے تو بسا اوقات ان سے خطا ہو جاتی تھی، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دفعہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے طلوعِ فجر سے پہلے اذان دے دی، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ ان الفاظ کے ساتھ آواز لگائیں: ((اَلَا اِنَّ الْعَبْدَ نَامَ، اَلَا اِنَّ الْعَبْدَ نَامَ۔)) ”خبردار! بندہ سو گیا تھا، خبردار! بندہ سو گیا تھا۔“ پس وہ لوٹے اور یہ اعلان کرنے لگے: اَ لَا اِنَّ الْعَبْدَ نَامَ۔ (ابوداود: ۵۳۲) اور دوسری اذان سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی گئی، چونکہ وہ نابینا تھا، اس لیے طلوع فجر پر ان کو متنبہ کیا جاتا تھا، پس وہ اذان شروع کر دیتے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب
زیر مطالعہ حدیث کی مزید وضاحت کیلئے دیکھیں مسند احمد محقق، رقم الحدیث: ۱۶۰۵۰، ج۱۰/ ص۲۳۳۔ (عبداللہ رفیق)
زیر مطالعہ حدیث کی مزید وضاحت کیلئے دیکھیں مسند احمد محقق، رقم الحدیث: ۱۶۰۵۰، ج۱۰/ ص۲۳۳۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 9
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3741 in Urdu