🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. فَصْلٌ مِنْهُ فِي صِفَةِ الْفَجْرِ الصَّادِقِ وَالْفَجْرِ الْكَاذِبِ وَمَا جَاءَ فِي أَذَانِ بِلَالٍ وَابْنِ أُمِّ
صبح صادق اور کاذب کی کیفیت اور سیدنا بلال اور سیدنا ام مکتوم رضی اللہ عنہما کی اذانوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3741
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَمْنَعُكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنَ السَّحُورِ، فَإِنَّ فِي بَصَرِهِ شَيْئًا) )
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ کی اذان تمہیں سحری سے نہ روکے، کیونکہ ان کی نظر میں کچھ خلل ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3741]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 9، والبزار: 982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12428 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12455»
وضاحت: فوائد: … کیونکہ اس کی نظر میں کچھ خلل ہے۔ اس وجہ کااذانِ بلالی کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس وجہ کا تعلق سیدنابلال رضی اللہ عنہ کو سحری والی اذان کا ذمہ دار بنانے سے ہے، کیونکہ جب وہ طلوعِ فجر کے بعد والی اذان دیتے تھے تو بسا اوقات ان سے خطا ہو جاتی تھی، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دفعہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے طلوعِ فجر سے پہلے اذان دے دی، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ ان الفاظ کے ساتھ آواز لگائیں: ((اَلَا اِنَّ الْعَبْدَ نَامَ، اَلَا اِنَّ الْعَبْدَ نَامَ۔)) خبردار! بندہ سو گیا تھا، خبردار! بندہ سو گیا تھا۔ پس وہ لوٹے اور یہ اعلان کرنے لگے: اَ لَا اِنَّ الْعَبْدَ نَامَ۔ (ابوداود: ۵۳۲) اور دوسری اذان سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی گئی، چونکہ وہ نابینا تھا، اس لیے طلوع فجر پر ان کو متنبہ کیا جاتا تھا، پس وہ اذان شروع کر دیتے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب
زیر مطالعہ حدیث کی مزید وضاحت کیلئے دیکھیں مسند احمد محقق، رقم الحدیث: ۱۶۰۵۰، ج۱۰/ ص۲۳۳۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 9
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3742
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ) )
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3742]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 617، ومسلم: 1092، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4551»

الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 617
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3743
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ) ) ، قَالَتْ: فَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا كَانَ قَدْرَ مَا يَنْزِلُ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے دے۔ سیدہ کہتی ہیں: میرے علم کے مطابق (ان دو اذانوں میں اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ) ایک اذان کہہ کر اترتا تھا تو دوسرا اذان کہنے کے لیے چڑھ جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3743]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 622، 623، ومسلم 1092، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24273 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24777»

الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 622
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3744
عَنْ خُبَيْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّتِي تَقُولُ وَكَانَتْ حَجَّتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ بِلَالٌ أَوْ، إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ) ) ، وَكَانَ يَصْعَدُ هَذَا وَيَنْزِلُ هَذَا فَنَتَعَلَّقُ بِهِ فَنَقُولُ: كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ
۔ خبیب کہتے ہیں: میں نے اپنی پھوپھی (سیدہ انیسہ رضی اللہ عنہا)، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج بھی کیا تھا، سے سنا وہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرویہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دے دے۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان تک کھاتے پیتے رہا کرو۔ (دونوں اذانوں میں معمولی وقفہ ہوتا تھا، بس) ایک اذان کہہ کر نیچے آتا تو دوسرا کہنے کے لیے چڑھ جاتا، (بسا اوقات) ہم دوسرے موذن کے ساتھ چمٹ جاتے اور کہتے کہ ذرا رک جاؤ تاکہ ہم سحری کھا لیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3744]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه الطيالسي: 1661، والبيھقي: 1/ 382، وابن خزيمة: 405، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27985»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ اخرجه الطيالسي: 1661
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3745
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : عَنْ عَمَّتِهِ أُنَيْسَةَ بِنْتِ خُبَيْبِ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أَذَّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَلَا تَأْكُلُوا وَلَا تَشْرَبُوا) ) ، قَالَتْ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَيَبْقَى عَلَيْهَا مِنْ سُحُورِهَا فَتَقُولُ لِبِلَالٍ: أَمْهِلْ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْ سُحُورِي
۔ (دوسری سند) خبیب اپنی پھوپھی سیدہ انیسہ بنت خبیب رضی اللہ عنہا سے بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے تو کھاتے پیتے رہا کرو، لیکن جب بلال رضی اللہ عنہ اذان دے دے تو کھانا پینا چھوڑ دیا کرو۔ سیدہ انیسہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب کسی عورت کی سحری باقی ہوتی تو وہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے کہتی:ذرا رک جاؤ، تاکہ میں سحری سے فارغ ہو جاؤں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3745]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 2/ 10، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27440 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27986»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کا مفہوم تو یہی ہے کہ اِن دو اذانوں میں معمولی وقفہ ہوتا تھا، لیکن الفاظ ایسے ہیں کہ اس وقفے کی مقدار کا تعین نہیں کیا جا سکتا، البتہ درج ذیل حدیث، جس میں اس اذان کا مقصد بیان کیا گیا ہے، اس سے اس وقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَمْنَعَنَّ اَحَدَکُمْ اَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سُحُوْرِہٖفَاِنَّہٗیُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ لِیَرْجِعَ قَائِمَکُمْ وَ لِیُنَبِّہَ نَائِمَکُمْ۔)) سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کسی کو سحری سے نہ روکنے پائے، کیونکہ وہ تو رات کو اس لیے اذان دیتے ہیں، تاکہ قیام کرنے والے کو لوٹا دے اور سونے والوں کو بیدار کر دے۔ (بخاری، مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ اذان اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ قیام کرنے والے قیام بند کر دیں اور سونے والے نماز فجر کی تیاری کے لیے جاگ جائیں۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ فجر کی دو اذانوں کے مؤذن سیدنا بلال اور سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما تھے، اس باب کی اکثر احادیث سے معلوم ہوا کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سحری والی اذان دیتے تھے، لیکن سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا سحری والی اذان دینا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا فجر والی اذان دینا بھی ثابت ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 2/ 10
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں