🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. فصل منه فى صفة الفجر الصادق والفجر الكاذب وما جاء فى أذان بلال وابن أم
صبح صادق اور کاذب کی کیفیت اور سیدنا بلال اور سیدنا ام مکتوم رضی اللہ عنہما کی اذانوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3745
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : عَنْ عَمَّتِهِ أُنَيْسَةَ بِنْتِ خُبَيْبِ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أَذَّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَلَا تَأْكُلُوا وَلَا تَشْرَبُوا) ) ، قَالَتْ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَيَبْقَى عَلَيْهَا مِنْ سُحُورِهَا فَتَقُولُ لِبِلَالٍ: أَمْهِلْ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْ سُحُورِي
۔ (دوسری سند) خبیب اپنی پھوپھی سیدہ انیسہ بنت خبیب رضی اللہ عنہا سے بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے تو کھاتے پیتے رہا کرو، لیکن جب بلال رضی اللہ عنہ اذان دے دے تو کھانا پینا چھوڑ دیا کرو۔ سیدہ انیسہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب کسی عورت کی سحری باقی ہوتی تو وہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے کہتی:ذرا رک جاؤ، تاکہ میں سحری سے فارغ ہو جاؤں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3745]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 2/ 10، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27440 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27986»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کا مفہوم تو یہی ہے کہ اِن دو اذانوں میں معمولی وقفہ ہوتا تھا، لیکن الفاظ ایسے ہیں کہ اس وقفے کی مقدار کا تعین نہیں کیا جا سکتا، البتہ درج ذیل حدیث، جس میں اس اذان کا مقصد بیان کیا گیا ہے، اس سے اس وقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَمْنَعَنَّ اَحَدَکُمْ اَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سُحُوْرِہٖفَاِنَّہٗیُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ لِیَرْجِعَ قَائِمَکُمْ وَ لِیُنَبِّہَ نَائِمَکُمْ۔)) سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کسی کو سحری سے نہ روکنے پائے، کیونکہ وہ تو رات کو اس لیے اذان دیتے ہیں، تاکہ قیام کرنے والے کو لوٹا دے اور سونے والوں کو بیدار کر دے۔ (بخاری، مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ اذان اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ قیام کرنے والے قیام بند کر دیں اور سونے والے نماز فجر کی تیاری کے لیے جاگ جائیں۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ فجر کی دو اذانوں کے مؤذن سیدنا بلال اور سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما تھے، اس باب کی اکثر احادیث سے معلوم ہوا کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سحری والی اذان دیتے تھے، لیکن سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا سحری والی اذان دینا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا فجر والی اذان دینا بھی ثابت ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 2/ 10


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3745 in Urdu