الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابٌ فِي طَهَارَةِ الْمَاءِ الْمُتَوَضَّأِ بِهِ
جس پانی سے وضو کیا جائے، اس کی طہارت کا بیان
حدیث نمبر: 376
عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: مَرِضْتُ فَأَتَانِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَاشِيَيْنِ وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَلَمْ أُكَلِّمْهُ، فَتَوَضَّأَ فَصَبَّهُ عَلَيَّ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي وَلِيَ أَخَوَاتٌ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ} كَانَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أَخَوَاتٌ {إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ}
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”میں بیمار ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ پیدل چل کر میرے پاس آئے، جبکہ میں بے ہوش تھا، اس لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات نہیں کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وہ پانی مجھ پر ڈالا، پس مجھے افاقہ ہو گیا،“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں اپنے مال کا کیا کروں، جبکہ میری بہنیں بھی ہیں؟“ پس میراث والی یہ آیت نازل ہوئی: «یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ» سیدنا جابر کی اولاد نہیں تھی، بہنیں تھیں، «اِنِ امْرُئٌ ہَلَکَ لَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ اُخْتٌ» [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 376]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5651، 6723، ومسلم: 1616، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14349»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5651
Al-Fath al-Rabbani Hadith 376 in Urdu