یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب فى طهارة الماء المتوضأ به
جس پانی سے وضو کیا جائے، اس کی طہارت کا بیان
حدیث نمبر: 377
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فِي حَدِيثِ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةَ أَنَّ رَسُولَ قُرَيْشٍ قَامَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَأَى مَا يَصْنَعُ بِهِ أَصْحَابُهُ، لَا يَتَوَضَّأُ وُضُوءً إِلَّا ابْتَدَرُوهُ وَلَا يَبْسُقُ بُسَاقًا إِلَّا ابْتَدَرُوهُ وَلَا يَسْقُطُ مِنْ شَعَرِهِ شَيْءٌ إِلَّا أَخَذُوهُ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا مروان بن حکم رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: قریشیوں کا قاصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہوا، جبکہ وہ دیکھ چکا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی وضو کرتے ہیں تو وہ (اعضائے شریفہ سے گرنے والے پانی) کی طرف لپکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی تھوکتے ہیں تو وہ اس کو لینے کے لیے بھی بڑھتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو بال گرتا ہے، وہ اس کو پکڑ لیتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 377]
تخریج الحدیث: «ھذا حديث طويل وأخرجه البخاري مختصرا: 1811، 2711، 2712، 2731، 2732، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18910 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19117»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 377 in Urdu