الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمَيِ الْعِيدَيْنِ
ان دنوں کا بیان جن میں روزہ رکھنا منع ہے عیدین کے دو دنوں کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 3857
عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: شَهِدْتُّ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ (بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، أَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صَوْمِكُمْ، وَأَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى فَكُلُوا مِنْ نُسُكِكُمْ
۔ ابوعبید کہتے ہیں: عید کے موقع پر میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاں موجود تھا، انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، (اس کی وجہ یہ ہے کہ) عید الفطر(ایک ماہ کے) روزوں سے تمہاری افطاری کا دن ہوتا ہے اور عید الاضحیٰ ویسے قربانی کا دن ہے، اس لیے اس میں قربانی کا گوشت کھایا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3857]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1990، 5571، ومسلم: 1137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 163 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 163»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1990
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3857 in Urdu