الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ النَّهْيِ عَنْ أَفْرَادِ يَوْمَيِ الْجُمُعَةِ وَالسَّبْتِ بِالصِّيَامِ
صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 3871
عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ قَالَ: سَمِعْتُ لَيْلَى امْرَأَةَ بِشْرٍ تَقُولُ: إِنَّ بَشِيرًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَأَصُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَا أُكَلِّمُ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَحَدًا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَصُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا فِي أَيَّامٍ هُوَ أَحَدُهَا أَوْ فِي شَهْرٍ، وَأَمَّا أَنْ لَا تُكَلِّمَ أَحَدًا فَلَعَمْرِي! لَا أَنْ تَكَلَّمَ بِمَعْرُوفٍ وَتَنْهَى عَنْ مُنْكَرٍ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَسْكُتَ) )
۔ سیدہ لیلیٰ زوجہ بشیر کہتی ہیں کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: میں جمعہ کے دن روزہ رکھوں گا اور اس دن کسی سے کلام نہیں کروں گا، (یہ جائز ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف جمعہ کے دن روزہ نہیں رکھنا، الّا یہ کہ دوسرے دنوں میں یا مہینے میں (ایک عادت کے ساتھ) روزے رکھے جا رہے ہوں اور یہ جمعہ کا دن بھی ان میں سے ایک ہو جائے، باقی رہا مسئلہ تمہارے خاموش رہنے کا تو میری عمر کی قسم! تمہارا نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے لیے بولنا خاموش رہنے سے بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3871]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 1232، والبيھقي: 10/ 75، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22300»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 1232
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3871 in Urdu