الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ النَّهْيِ عَنْ أَفْرَادِ يَوْمَيِ الْجُمُعَةِ وَالسَّبْتِ بِالصِّيَامِ
صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 3869
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَوْمُ عِيدٍ، فَلَا تَجْعَلُوا يَوْمَ عِيدِكُمْ يَوْمَ صِيَامِكُمْ إِلَّا أَنْ تَصُومُوا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جمعہ کا دن، عید کا دن ہے، پس تم اِس عید کے دن روزہ نہ رکھا کرو، الّا یہ کہ اس سے پہلے ایک دن روزہ رکھ لو یا بعد والے دن۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3869]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ اخرجه الحاكم: 1/ 437، وابن خزيمة: 2161، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8025 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8012»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
((وَلَا تَخْتَصُّوْا لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ بِقِیَامٍ مِنْ بَیْنِ اللَّیَالِیْ وَلَا تَخْتَصُّوْا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بِصِیَامٍ مِنْ بَیْنِ الْاَیَّامِ اِلَّا اَنْ یَکُوْنَ فِیْ صَوْمٍ یَصُوْمُہٗ اَحَدُکُمْ۔))
”جمعہ کی رات کو قیام کے ساتھ اور جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ خاص نہ کرو، الّا یہ کہ جمعہ کا دن کسی کی عادت والے روزے میں آ جائے۔ “
اس موضوع سے متعلقہ تمام احادیث کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس آدمی کے لیے جمعہ کا روزہ رکھنا جائز ہے، جو جمعرات یا ہفتہ کو بھی روزہ رکھے، اسی طرح وہ شخص بھی جمعہ کے دن کا روزہ رکھ سکتا ہے، جس کی عادت میں جمعہ کا دن آجائے، مثلا ایک آدمی ہر سال عرفہ کے دن یعنی (۹) ذوالحجہ کا روزہ رکھتا ہے، اگر اتفاق سے یہ دن جمعہ کا بھی ہو تو اس کیلئے روزہ رکھنا جائز ہو گا۔ جمعہ کا دن اس اعتبار سے عید ہے کہ اس میں ہفتے کے باقی دنوں کی بہ نسبت کئی خصوصیات پائی جاتی ہیں، لوگ نمازِ عید کی طرح نمازِ جمعہ میں جمع ہوتے ہیںاور عید کے خطبے کی طرح اس میں خطبۂ جمعہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں نہانا، خوشبو لگانا، مسواک کرنا اور اچھے کپڑے پہننا، یہ امور بھی عید سے مشابہت پیدا کر دیتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
((وَلَا تَخْتَصُّوْا لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ بِقِیَامٍ مِنْ بَیْنِ اللَّیَالِیْ وَلَا تَخْتَصُّوْا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بِصِیَامٍ مِنْ بَیْنِ الْاَیَّامِ اِلَّا اَنْ یَکُوْنَ فِیْ صَوْمٍ یَصُوْمُہٗ اَحَدُکُمْ۔))
”جمعہ کی رات کو قیام کے ساتھ اور جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ خاص نہ کرو، الّا یہ کہ جمعہ کا دن کسی کی عادت والے روزے میں آ جائے۔ “
اس موضوع سے متعلقہ تمام احادیث کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس آدمی کے لیے جمعہ کا روزہ رکھنا جائز ہے، جو جمعرات یا ہفتہ کو بھی روزہ رکھے، اسی طرح وہ شخص بھی جمعہ کے دن کا روزہ رکھ سکتا ہے، جس کی عادت میں جمعہ کا دن آجائے، مثلا ایک آدمی ہر سال عرفہ کے دن یعنی (۹) ذوالحجہ کا روزہ رکھتا ہے، اگر اتفاق سے یہ دن جمعہ کا بھی ہو تو اس کیلئے روزہ رکھنا جائز ہو گا۔ جمعہ کا دن اس اعتبار سے عید ہے کہ اس میں ہفتے کے باقی دنوں کی بہ نسبت کئی خصوصیات پائی جاتی ہیں، لوگ نمازِ عید کی طرح نمازِ جمعہ میں جمع ہوتے ہیںاور عید کے خطبے کی طرح اس میں خطبۂ جمعہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں نہانا، خوشبو لگانا، مسواک کرنا اور اچھے کپڑے پہننا، یہ امور بھی عید سے مشابہت پیدا کر دیتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ اخرجه الحاكم: 1/ 437
حدیث نمبر: 3870
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي أَيَّامٍ
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا، الّایہ کہ دوسرے دنوں کی عادت چل رہی ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3870]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الطحاوي: 1/ 511، وابن راھويه: 237، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8772 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8757»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری (۱۹۷۵) اور صحیح مسلم (۱۱۴۴) میں بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث موجود ہے، لیکن اس کے الفاظ یہ ہیں: ((لَایَصُوْمُ اَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اِلّٰا یَوْمًا قَبْلَہٗاَوْبَعْدَہٗ)) ”تممیں سے کوئی آدمی جمعہ کے روز کا روزہ نہ رکھے، الا یہکہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھے۔“
الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ اخرجه الطحاوي: 1/ 511
حدیث نمبر: 3871
عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ قَالَ: سَمِعْتُ لَيْلَى امْرَأَةَ بِشْرٍ تَقُولُ: إِنَّ بَشِيرًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَأَصُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَا أُكَلِّمُ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَحَدًا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَصُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا فِي أَيَّامٍ هُوَ أَحَدُهَا أَوْ فِي شَهْرٍ، وَأَمَّا أَنْ لَا تُكَلِّمَ أَحَدًا فَلَعَمْرِي! لَا أَنْ تَكَلَّمَ بِمَعْرُوفٍ وَتَنْهَى عَنْ مُنْكَرٍ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَسْكُتَ) )
۔ سیدہ لیلیٰ زوجہ بشیر کہتی ہیں کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: میں جمعہ کے دن روزہ رکھوں گا اور اس دن کسی سے کلام نہیں کروں گا، (یہ جائز ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف جمعہ کے دن روزہ نہیں رکھنا، الّا یہ کہ دوسرے دنوں میں یا مہینے میں (ایک عادت کے ساتھ) روزے رکھے جا رہے ہوں اور یہ جمعہ کا دن بھی ان میں سے ایک ہو جائے، باقی رہا مسئلہ تمہارے خاموش رہنے کا تو میری عمر کی قسم! تمہارا نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے لیے بولنا خاموش رہنے سے بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3871]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 1232، والبيھقي: 10/ 75، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22300»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 1232
حدیث نمبر: 3872
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! أَنْتَ نَهَيْتَ النَّاسَ أَنْ يَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: لَا، لَعَمْرُ اللَّهِ! غَيْرَ أَنِّي وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا يَصُمَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا فِي أَيَّامٍ يَصُومُهَا فِيهَا) )
۔ بنو حارث بن کعب کے ایک فرد سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: میں سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک آدمی نے آکر پوچھا: ابوہریرہ! آپ نے لوگوں کو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا:نہیں، اللہ کی عمر کی قسم! البتہ اس حرمت کے ربّ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کوئی بھی جمعہ کے دن روزہ ہر گز نہ رکھے، الّایہ کہ یہ دن ایسے دوسرے دنوں میں آ جائے، جن کے وہ روزے رکھ رہا ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3872]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الطحاوي: 1/ 511، وابن راھويه: 237، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9467 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9448»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ اخرجه الطحاوي: 1/ 511
حدیث نمبر: 3873
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَهِيَ صَائِمَةٌ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، فَقَالَ لَهَا: ( (أَصُمْتِ أَمْسِ؟) ) فَقَالَتْ: لَا، قَالَ: ( (أَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا؟) ) فَقَالَتْ: لَا، قَالَ: ( (فَأَفْطِرِي إِذًا) )
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، انھوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر روزہ توڑ دو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3873]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 43، وابن خزيمة: 2162، وابن حبان: 3611، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 2753، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6771 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6771»
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 43
حدیث نمبر: 3874
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْهَجْرِيِّ عَنْ جُوَيْرِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى جُوَيْرِيَةَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ وَهِيَ صَائِمَةٌ، فَقَالَ لَهَا: ( (أَصُمْتِ أَمْسِ؟) ) قَالَتْ: لَا، قَالَ: تَصُومِينَ (وَفِي لَفْظٍ أَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي) غَدًا؟ قَالَتْ: لَا، قَالَ: ( (فَأَفْطِرِي) )
۔ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن ان کے ہاں تشریف لائے، جبکہ وہ روزہ سے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا تمہارا کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ انھوں نے کہا:جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: توپھر روزہ افطار کر لو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3874]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1986، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26755 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27291»
وضاحت: فوائد: … ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن روزہ رکھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہفتہ کے دن کا روزہ رکھنے کی بھی نیت رکھتا ہو، بصورت ِ دیگر جب اس کو اس مسئلے کا پتہ چلے گا، تو وہ روزہ توڑ دے گا۔
الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 1986
حدیث نمبر: 3875
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَحْدَهُ) )
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3875]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2615»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 3876
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ: أَسْمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ!
۔ محمد بن عباد سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، جبکہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جمعہ کے دن ر وزہ رکھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس گھر کے رب کی قسم! [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3876]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1984، ومسلم: 1143، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14201»
وضاحت: فوائد: … ان روایات کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنا منع ہے، البتہ درج ذیل روایت قابل غور ہے: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ یَصُوْمُ مِنْ غُرَّۃِ کُلِّ شَھْرٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ وَقَلَّمَا کَانَ یُفْطِرُیَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مہینے کے ہر ماہ کے شروع میں تین دن روزہ رکھتے تھے اور جمعہ کے دن تو کم ہی افطار کرتے تھے۔ (ابن ماجہ، نسائی) اگر درج بالا روایات کی روشنی میں یہ فیصلہ کرلیا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف جمعہ کے دن کا روزہ نہیں رکھتے ہوں گے، بلکہ اس کے ساتھ جمعرات یا ہفتہ کا روزہ ملاتے ہوں گے، تو بہتر ہو گا اور اس سے ساری نصوص پر عمل ہو جائے گا۔
الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 1984
حدیث نمبر: 3877
عَنْ حَسَّانِ بْنِ نُوحٍ الْحِمْصِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: تَرَوْنَ كَفِّي هَذِهِ؟ فَأَشْهَدُ أَنِّي وَضَعْتُهَا عَلَى كَفِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ: بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ إِلَّا فِي فَرِيضَةٍ، وَقَالَ: ( (إِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ) )
۔ حسان بن نوح حمصی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن بسر کو دیکھا، انھوں نے کہا: لوگو! تم میری یہ ہتھیلی دیکھ رہے ہو؟ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اس کو اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی پر رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کر دیا ہے الّایہ کہ فرضی روزہ ہو۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کھانے کے لیے کچھ نہ ملے، ما سوائے درخت کے چھلکے کے، تو وہی کھا کر (روزہ نہ ہونے کی نشاندہی کر دینی چاہیے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3877]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح، اخرجه ابوداود: 1726، وابن ماجه: 1726، والترمذي: 744، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17690 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17842»
الحكم على الحديث: قال الالباني: صحيح
حدیث نمبر: 3878
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أُخْتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا عُودَ عِنَبٍ أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضَغْهُ) )
۔ سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی بہن سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: ہفتہ کا روزہ نہ رکھا کرو، الّا یہ کہ یہ ان دنوں میں آ جائے کہ جن کے روزے تم پر فرض ہیں، اگر اس دن کو کسی کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ ہو، ما سوائے انگور کی لکڑی یا درخت کے چھلکے کے، تو اسی کو چبا لے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3878]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2421، وانظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27615»
وضاحت: فوائد: … ان دو احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ایسے نہ ہو کہ ہفتہ کا دن کھائے پئے بغیر گزر جائے۔
الحكم على الحديث: قال الالباني: صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2421