الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. باب صوم أيام البيض
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
حدیث نمبر: 3954
عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِطَعَامٍ فَدَعَا إِلَيْهِ رَجُلًا، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: وَأَيُّ الصِّيَامِ تَصُومُ؟ لَوْلَا كَرَاهِيَةُ أَنْ أَزِيدَ أَوْ أَنْقُصَ لَحَدَّثْتُكُمْ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَيْنَ جَاءَهُ الْأَعْرَابِيُّ بِالْأَرْنَبِ، وَلَكِنْ أَرْسِلُوا إِلَى عَمَّارٍ، فَلَمَّا جَاءَهُ عَمَّارٌ، قَالَ: أَشَاهِدٌ أَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جَاءَهُ الْأَعْرَابِيُّ بِالْأَرْنَبِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا، فَقَالَ: ( (كُلُوهَا) ) ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: ( (وَأَيُّ الصِّيَامِ تَصُومُ؟) ) قَالَ: أَوَّلَ الشَّهْرِ وَآخِرَهُ، قَالَ: ( (إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الثَّلَاثَ عَشْرَةَ وَالْأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَالْخَمْسَ عَشْرَةَ) )
۔ ابن حو تکیہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، انھوں نے ایک آدمی کو کھانے کی دعوت دی، لیکن اس نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ انہوں نے کہا: تم کن دنوں میں روزے رکھتے ہو؟ اگر کمی بیشی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث سناتا،جس کے مطابق ایک بدّو آپ کی خدمت میں ایک خرگوش لے کر حاضر ہواتھا، البتہ تم سیدناعمار رضی اللہ عنہ کو بلاؤ۔ جب وہ آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ اس روز موجود تھے، جس دن ایک بدّو ایک خرگوش لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس بدّو نے کہا تھا: میں نے دیکھا کہ اسے خون آتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو کھالو۔ اس بدّو نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم مہینے کے کون سے دنوں میں روزے رکھتے ہو؟ اس نے کہا: مہینے کے شروع اور آخر میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے روزے رکھنے ہوں تو چاند کی۱۳، ۱۴ اور ۱۵ تاریخوں کا رکھا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3954]
تخریج الحدیث: «حسن بشواهده۔ اخرجه الطيالسي: 44، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 4823، وعبد الرزاق: 7874، وابن خزيمة: 2127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 210»
وضاحت: فوائد: … شرعی قواعد کے مطابق خرگوش حلال ہے، بدّو یہ کہنا چاہتا تھا کہ جیسے خاتون کو حیض کا خون آتا ہے، اس طرح اِس کو بھی خون آتا ہے، لیکن اس سے اس جانور کے حلال ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت آمادہ نہیں ہوئی۔
الحكم على الحديث: حسن بشواهده۔ اخرجه الطيالسي: 44
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3954 in Urdu