الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. بَابُ صَوْمِ أَيَّامِ الْبِيضِ
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
حدیث نمبر: 3953
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا وَمَعَهَا صِنَابُهَا وَأُدَمُهَا، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَأْكُلُوا فَأَمْسَكَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ؟) ) قَالَ: إِنِّي أَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، قَالَ: ( (إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الْأَيَّامَ الْغُرَّ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک خرگوش بھون کر لایا اور اس کے ساتھ رائی اور کشمش کی چٹنی اور سالن بھی تھا، اس نے لا کر آپ کے سامنے رکھ دیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود تو نہ کھایا، البتہ اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ کھائیں، بدّو نے کھانے سے ہاتھ روکے رکھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم کیوں نہیں کھا رہے؟ اس نے کہا: میں ہر ماہ تین دن روزے رکھتا ہوں، (ایک روزہ آج رکھا ہوا ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے روزے رکھنے ہوں تو ایامِ بیض کے روزے رکھا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3953]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 222، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8415»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 222
حدیث نمبر: 3954
عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِطَعَامٍ فَدَعَا إِلَيْهِ رَجُلًا، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: وَأَيُّ الصِّيَامِ تَصُومُ؟ لَوْلَا كَرَاهِيَةُ أَنْ أَزِيدَ أَوْ أَنْقُصَ لَحَدَّثْتُكُمْ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَيْنَ جَاءَهُ الْأَعْرَابِيُّ بِالْأَرْنَبِ، وَلَكِنْ أَرْسِلُوا إِلَى عَمَّارٍ، فَلَمَّا جَاءَهُ عَمَّارٌ، قَالَ: أَشَاهِدٌ أَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جَاءَهُ الْأَعْرَابِيُّ بِالْأَرْنَبِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا، فَقَالَ: ( (كُلُوهَا) ) ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: ( (وَأَيُّ الصِّيَامِ تَصُومُ؟) ) قَالَ: أَوَّلَ الشَّهْرِ وَآخِرَهُ، قَالَ: ( (إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الثَّلَاثَ عَشْرَةَ وَالْأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَالْخَمْسَ عَشْرَةَ) )
۔ ابن حو تکیہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، انھوں نے ایک آدمی کو کھانے کی دعوت دی، لیکن اس نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ انہوں نے کہا: تم کن دنوں میں روزے رکھتے ہو؟ اگر کمی بیشی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث سناتا،جس کے مطابق ایک بدّو آپ کی خدمت میں ایک خرگوش لے کر حاضر ہواتھا، البتہ تم سیدناعمار رضی اللہ عنہ کو بلاؤ۔ جب وہ آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ اس روز موجود تھے، جس دن ایک بدّو ایک خرگوش لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس بدّو نے کہا تھا: میں نے دیکھا کہ اسے خون آتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو کھالو۔ اس بدّو نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم مہینے کے کون سے دنوں میں روزے رکھتے ہو؟ اس نے کہا: مہینے کے شروع اور آخر میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے روزے رکھنے ہوں تو چاند کی۱۳، ۱۴ اور ۱۵ تاریخوں کا رکھا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3954]
تخریج الحدیث: «حسن بشواهده۔ اخرجه الطيالسي: 44، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 4823، وعبد الرزاق: 7874، وابن خزيمة: 2127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 210»
وضاحت: فوائد: … شرعی قواعد کے مطابق خرگوش حلال ہے، بدّو یہ کہنا چاہتا تھا کہ جیسے خاتون کو حیض کا خون آتا ہے، اس طرح اِس کو بھی خون آتا ہے، لیکن اس سے اس جانور کے حلال ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت آمادہ نہیں ہوئی۔
الحكم على الحديث: حسن بشواهده۔ اخرجه الطيالسي: 44
حدیث نمبر: 3955
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمِنْهَالِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَيَّامِ الْبِيضِ فَهُوَ صَوْمُ الشَّهْرِ
۔ سیدنا منہال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایامِ بِیض کے روزے رکھنے کا حکم دیا،یہ ایک ماہ کے روزوں کے برابر ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3955]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2449، وابن ماجه: 1707، والنسائي: 4/ 224، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17513 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17654»
الحكم على الحديث: حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2449
حدیث نمبر: 3956
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِصِيَامِ اللَّيَالِي الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ وَقَالَ: ( (هِيَ كَصَوْمِ الدَّهْرِ) )
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سفیدی والی راتوں یعنی چاند کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: یہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3956]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20582»
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20582
حدیث نمبر: 3957
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ كَانَ صَائِمًا مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلْيَصُمِ الثَّلَاثَ الْبِيضَ) )
۔ سیدناابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی ایک مہینہ میں تین روزے رکھنا چاہے تو وہ ایامِ بِیض کے تین دنوں کے روزے رکھا کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3957]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ اخرجه الترمذي: 761، والنسائي: 4/ 222، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21350 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21677»
الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ اخرجه الترمذي: 761