الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْعُمْرَةِ خُصُوصًا فِي رَمَضَانَ
عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 4097
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَهُ فِي الْعُمْرَةِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَالَ: ( (يَا أَخِي! لَا تَنْسَنَا مِنْ دُعَائِكَ) ) ، وَقَالَ بَعْدُ فِي الْمَدِينَةِ: ( (أَشْرِكْنَا فِي دُعَائِكَ) ) ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا أَخِي) )
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دی اوریہ بھی فرمایا: میرے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں بھلا نہ دینا۔ راویٔ حدیث شعبہ نے بعد میں مدینہ میں حدیث بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے تھے: ہمیں اپنی دعاؤں میں شامل کیے رکھنا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو مجھے اپنا بھائی کہا تھا، یہ چیز مجھے اتنی پسند آئی کہ میں اس کے مقابلے میں پوری دنیا کو ترجیح نہیں دیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4097]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبد الله۔ أخرجه ابوداود: 1498، وابن ماجه: 2894، والترمذي: 3562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 195»
وضاحت: فوائد: … ”مَا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ“ کا لفظی معنی ہے وہ چیزیں جن پر سورج کی روشنی پڑتی ہے، اس سے مراد پوری دنیا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبد الله۔ أخرجه ابوداود: 1498
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4097 in Urdu