🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْعُمْرَةِ خُصُوصًا فِي رَمَضَانَ
عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4094
عَنْ هَرِمِ بْنِ خَنْبَشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فِي أَيِّ الشُّهُورِ أَعْتَمِرُ؟ قَالَ: ( (اعْتَمِرِي فِي رَمَضَانَ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً) )
۔ سیدنا ہرم بن خنبش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس مہینہ میں عمرہ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کرو، کیونکہ ماہِ رمضان میں ادا کیا ہوا عمرہ حج کے برابر ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4094]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه ابن ماجه: 2992، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17743»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4095
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4095]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1782، ومسلم: 1256، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2809 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2809»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4096
عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4096]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ماجه: 2995، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14795 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14855»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۴۰۸۲)کی شرح میں اس فضیلت کی وضاحت ہو چکی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4097
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَهُ فِي الْعُمْرَةِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَالَ: ( (يَا أَخِي! لَا تَنْسَنَا مِنْ دُعَائِكَ) ) ، وَقَالَ بَعْدُ فِي الْمَدِينَةِ: ( (أَشْرِكْنَا فِي دُعَائِكَ) ) ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا أَخِي) )
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دی اوریہ بھی فرمایا: میرے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں بھلا نہ دینا۔ راویٔ حدیث شعبہ نے بعد میں مدینہ میں حدیث بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے تھے: ہمیں اپنی دعاؤں میں شامل کیے رکھنا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو مجھے اپنا بھائی کہا تھا، یہ چیز مجھے اتنی پسند آئی کہ میں اس کے مقابلے میں پوری دنیا کو ترجیح نہیں دیتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4097]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبد الله۔ أخرجه ابوداود: 1498، وابن ماجه: 2894، والترمذي: 3562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 195»
وضاحت: فوائد: … مَا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ کا لفظی معنی ہے وہ چیزیں جن پر سورج کی روشنی پڑتی ہے، اس سے مراد پوری دنیا ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4098
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ) )
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ کرنا، یہ عمل اِن دو کے درمیانی عرصے کے گناہوں اور خطاؤں کا کفارہ بنتا ہے اور رہا مسئلہ حج مبرور کا تو اس کا بدلہ تو صرف جنت ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4098]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15701م ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15792»
وضاحت: فوائد: … دو عمروں کی وجہ سے ان کے درمیانے گناہوں کا بخش دیا جانا، ظاہر بات تو یہی ہے کہ ان گناہوں کی معافی دوسرے عمرے کی وجہ سے ہو گی اور پہلے عمرے کی وجہ سے اس سے پہلے والے گناہ معاف کیے جائیں گے، کِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ کے پہلے باب میں مذکورہ احادیث سے یہی پتہ چلتا ہے کہ ہر عمرے کی وجہ سے اس سے پہلے والے گناہ معاف ہوتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں