الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب فى تطهير أسفل النعل تصيبه النجاسة
جوتے کے نچلے حصے کو لگ جانے والی نجاست کو پاک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 410
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَخَلَعَ النَّاسُ نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ( (لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ؟) ) فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا، قَالَ: ( (إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ بِهِمَا خَبَثًا، فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُقَلِّبْ نَعْلَيْهِ فَلْيَنْظُرْ فِيهِمَا، فَإِنْ رَأَى بِهِمَا خَبَثًا فَلْيَمْسَحْهُ بِالْأَرْضِ ثُمَّ لِيُصَلِّ فِيهِمَا) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور (نماز کے اندر) جوتے اتار دیے، پس لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو پوچھا: ”تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار دیے؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا، سو ہم نے بھی اتار دیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے میرے پاس آکر مجھے بتلایا کہ ان میرے جوتوں پر نجاست لگی ہوئی ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتوں کو الٹ پلٹ کر کے دیکھ لیا کرے، اگر ان میں کوئی نجاست نظر آئے تو اس کو زمین سے صاف کر لے اور پھر ان میں نماز پڑھ لے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 410]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 650،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11153 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11170»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا وَطِیئَ اَحَدُکُمْ بِنَعْلِہِ الْاَذٰی فَاِنَّ التُّرَابَ لَہٗ طَھُوْرٌ)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((اِذَا وَطِیئَ الْاَذٰی بِخُفَّیْہِ فَطَھُوُرُھُمَا التُّرَابُ)) … جب کوئی آدمی اپنے جوتے سے نجاست کو روندے تو مٹی اس کو پاک کرنے والی ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: جب اپنے موزوں سے نجاست کو روندے تو مٹی ان کو پاک کرنے والی ہے۔ (ابوداود: ۳۸۵، ۳۸۶، شرح معانی الآثار: ۱/ ۵۱۱، حاکم: ۱/ ۱۶۶، بیہقی: ۲/ ۴۰۶) جوتے یا موزے پر لگی ہوئی نجاست تر ہو یا خشک، دونوں صورتوں میں رگڑنے سے صاف ہو جائے گی، لیکن یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ یہ شریعت کی طرف سے ایک رخصت ہے، اگر اس موقع پر جوتوں اور موزوں کو دھونے کا حکم دے دیا جاتا تو اس میں امت کے لیے بڑی مشقت ہوتی۔
صحابہ کرام کی اطاعت ِ رسول کا جذبہ دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب نماز میں جوتا اتارا تو انھوں نے بھی اسی وقت اس کو اتارنا مناسب سمجھا۔ سبحان اللہ
صحابہ کرام کی اطاعت ِ رسول کا جذبہ دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب نماز میں جوتا اتارا تو انھوں نے بھی اسی وقت اس کو اتارنا مناسب سمجھا۔ سبحان اللہ
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 410 in Urdu