الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ مَوَاقِيتِ الْإِحْرَامِ الْمَكَانِيَّةِ
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
حدیث نمبر: 4141
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَقَالَ: هَؤُلَاءِ الثَّلَاثُ حَفِظْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ) ) ، فَقِيلَ لَهُ: الْعِرَاقُ؟ قَالَ: لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ عِرَاقٌ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ، اہلِ نجد کے لیے قرن اور اہلِ شام کے لیے جحفہ کو میقات مقرر کیا ہے، پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تین مقامات تو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یادکیے اور مجھے یہ بھی بیان کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہلِ یمن کے لیےیلملم ہے۔ کسی نے ان سے پوچھا:اور اہل عراق کا میقات؟ انھوں نے کہا: ان دنوں عراق کا وجود ہی نہیں تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4141]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5111»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ ہے کہ ان دنوں عراق فتح نہیں ہوا تھا، دراصل جس حدیث میں عراق کے میقات کی وضاحت کی گئی ہے، وہ ان کے علم میں نہیں تھی،یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ذات عرق کو لوگوں کے اندازے کا نتیجہ قرار دیا۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ذات عرق کو عراق کا میقات قرار دیا تھا، جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے، اگر فتح نہ ہونے والا نقطہ سامنے لایا جائے تو عہد ِ نبوی میں شام بھی فتح نہیں ہوا تھا، جبکہ اس کے میقات کا تعین تو کر دیا گیا تھا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5111
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4141 in Urdu