الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ مَوَاقِيتِ الْإِحْرَامِ الْمَكَانِيَّةِ
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
حدیث نمبر: 4138
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَقَالَ: ( (وَهُنَّ وَقْتٌ لِأَهْلِهِنَّ، وَلِمَنْ مَرَّ بِهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ، يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَمَنْ كَانَ مَنْزِلُهُ مِنْ وَرَاءِ الْمِيقَاتِ، فَإِهْلَالُهُ مِنْ حَيْثُ يُنْشِئُ وَكَذَلِكَ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ إِهْلَالُهُمْ مِنْ حَيْثُ يُنْشِئُونَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لئے حجفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن المنازل کو بطورِ میقات مقرر کیا اور فرمایا: یہ مواقیت ان مقامات کے لوگوں کے لئے ہیں اور ان لوگوں کے لئے ہیں جو ان مواقیت سے گزر کر حج یا عمرہ کے لئے آئیں اور جس آدمی کی قیام گاہ ان حدود کے اندرہے، وہ جہاں سے روانہ ہو گا وہی اس کا میقات ہو گا، یہاں تک کہ مکہ والے لوگ مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4138]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1526، 1529، ومسلم: 1181، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2128 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2128»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4139
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) ، بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) ( (فَمَنْ كَانَ مِنْ دُونِ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ) )
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: اور جو لوگ اس میقات کی حد کے اندررہتے ہیں، وہ جہاں سے سفر شروع کریں گے، وہیں سے احرام باندھیں گے، یہاں تک کہ مکہ والے لوگ مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4139]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2272»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4140
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ يُحْرِمُ؟ قَالَ: ( (مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ) ) ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَقَاسَ النَّاسُ ذَاتَ عِرْقٍ بِقَرْنٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ وہ کہاں سے احرام باندھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن المنازل میقات ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگوں نے ذات عرق کو قرن المنازل پر قیاس کر لیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4140]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1522، 1525، ومسلم: 1182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4455 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4455»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4141
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَقَالَ: هَؤُلَاءِ الثَّلَاثُ حَفِظْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ) ) ، فَقِيلَ لَهُ: الْعِرَاقُ؟ قَالَ: لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ عِرَاقٌ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ، اہلِ نجد کے لیے قرن اور اہلِ شام کے لیے جحفہ کو میقات مقرر کیا ہے، پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تین مقامات تو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یادکیے اور مجھے یہ بھی بیان کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہلِ یمن کے لیےیلملم ہے۔ کسی نے ان سے پوچھا:اور اہل عراق کا میقات؟ انھوں نے کہا: ان دنوں عراق کا وجود ہی نہیں تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4141]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5111»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ ہے کہ ان دنوں عراق فتح نہیں ہوا تھا، دراصل جس حدیث میں عراق کے میقات کی وضاحت کی گئی ہے، وہ ان کے علم میں نہیں تھی،یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ذات عرق کو لوگوں کے اندازے کا نتیجہ قرار دیا۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ذات عرق کو عراق کا میقات قرار دیا تھا، جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے، اگر فتح نہ ہونے والا نقطہ سامنے لایا جائے تو عہد ِ نبوی میں شام بھی فتح نہیں ہوا تھا، جبکہ اس کے میقات کا تعین تو کر دیا گیا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4142
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ ثُمَّ انْتَهَى، أُرَاهُ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالطَّرِيقُ الْأُخْرَى الْجُحْفَةُ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ) )
۔ ابوزبیر کہتے ہیں:سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے ان مقامات کے بارے میں پوچھا گیا، جہاں سے تلبیہ کہا جاتا ہے، انھوں نے کہا: میں نے سنا ہے، پھر وہ خاموش ہو گئے، میرا خیال ہے کہ ان کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ کا میقات ایک راستے سے ذوالحلیفہ ہے اور دوسرے سے حجفہ،اہل عراق کا میقات ذات عرق، اہل نجد کا قرن المنازل اور اہل یمن کا میقات یلملم ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4142]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1183، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14572 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14626»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4143
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ثَنَا أَبُو الزَّبَيْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْمُهَلِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ) ) ، فَذَكَرَهُ بِاللَّفْظِ الْمُتَقَدِّمِ
۔ (دوسری سند) ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے میقات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اہل مدینہ کا میقات ذوالحلیفہ ہے، …۔ پھر سابقہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4143]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14670»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4144
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ وَأَهْلِ تِهَامَةَ يَلَمْلَمَ، وَلِأَهْلِ الطَّائِفِ وَهِيَ نَجْدٌ قَرْنًا، وَلِأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے حجفہ، اہل یمن اور اہل تہامہ کے لئے یلملم اور اہل طائف یعنی نجد والوں کے لئے قرن اور اہل عراق کے لئے ذات عرق کو بطورِ میقات مقرر کیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4144]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، دون ذكر ميقات اھل العراق فشاذ، وھذا اسناد ضعيف لتدليس الحجاج بن ارطاة۔ أخرجه البيھقي: 5/ 28، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6697 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6697»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4145
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ الْعَقِيقَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مشرق کے لئے عقیق کو میقات مقرر کیاہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4145]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد۔ أخرجه ابوداود: 1740، والترمذي: 832، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3205»
وضاحت: فوائد: … اہل مشرق سے مراد کوفہ، بغداد، خوزستان، فارس، عراق اور خراسان ان سے متعلقہ علاقے کے لوگ ہیں۔ذات عرق سے پیچھے مشرق کی طرف ایک وادی کا نام عقیق ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4146
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل نجد کے لئے قرن المنازل کو میقات مقرر کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4146]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16225»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4147
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ أَحْرَمَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) )
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بیت المقدس سے احرام باندھا، اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4147]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال ام حكيم حكيمة بنت امية۔ أخرجه ابوداود: 1741، وابن ماجه: 3001، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26557 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27092»
الحكم على الحديث: ضعیف