الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِرَانِ
… حج افراد کا بیان
حدیث نمبر: 4182
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: ( (مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَبْدَأَ مِنْكُمْ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ الْحَجِّ فَلْيَفْعَلْ) ) ، وَأَفْرَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ وَلَمْ يَعْتَمِرْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کو حکم دیا اور فرمایا: تم میں سے جو آدمی حج سے قبل عمرہ کرنا پسند کرتا ہو وہ عمرہ کر سکتا ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا، عمرہ نہیں کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4182]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قولھا: ولم يعتمر، وھذا اسناد ضعيف، ام علقمة روي عنها راويان، ولم يؤثر توثيقھا عن غير ابن حبان والعجلي۔ أخرجه مسلم: 1211 بلفظ: ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم افرد الحج۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25122»
وضاحت: فوائد: … یہ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کے ساتھ عمرہ کیا تھا، تو پھر اس حدیث میں اس امر کا کیا مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج افراد کیا تھا، حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۳/ ۴۲۹ میں) جمع تطبیق کییہ صورت پیش کی: جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حج افراد نقل کیا، اس کی بات کو ابتداء میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہے ہوئے تلبیہ پر محمول کیا جائے گا، جس نے حج تمتع کی بات کی، اس کی مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابہ کو دیا جانے والا حکم ہے اور جس نے حج قران کی بات کی، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخر میں پیش آنے والا عمل بیان کیا۔ بہرحال جو آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے حج قران کی بات کرتا ہے، اس کی بات مقبول ہو گی، کیونکہ اس کے پاس زیادہ علم ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قولھا: ولم يعتمر
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4182 in Urdu