🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِرَانِ
… حج افراد کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4181
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ أَجْلِ الْهَدْيِ، وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَطُوفَ وَأَنْ يَسْعَى وَيُقَصِّرَ أَوْ يَحْلِقَ ثُمَّ يَحِلَّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا احرام باندھا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں آئے تو بیت اللہ کا طواف کیا، صفا مروہ کی سعی کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بال نہ کٹوائے اور قربانی کا جانور ہمراہ ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلال نہ ہوئے اور جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ طواف اور سعی کے بعد بال منڈا کر یا کٹوا کر حلال ہو جائیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4181]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1792، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3128 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3128»

الحكم على الحديث: حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 1792
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4182
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: ( (مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَبْدَأَ مِنْكُمْ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ الْحَجِّ فَلْيَفْعَلْ) ) ، وَأَفْرَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ وَلَمْ يَعْتَمِرْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کو حکم دیا اور فرمایا: تم میں سے جو آدمی حج سے قبل عمرہ کرنا پسند کرتا ہو وہ عمرہ کر سکتا ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا، عمرہ نہیں کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4182]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قولھا: ولم يعتمر، وھذا اسناد ضعيف، ام علقمة روي عنها راويان، ولم يؤثر توثيقھا عن غير ابن حبان والعجلي۔ أخرجه مسلم: 1211 بلفظ: ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم افرد الحج۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25122»
وضاحت: فوائد: … یہ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کے ساتھ عمرہ کیا تھا، تو پھر اس حدیث میں اس امر کا کیا مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج افراد کیا تھا، حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۳/ ۴۲۹ میں) جمع تطبیق کییہ صورت پیش کی: جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حج افراد نقل کیا، اس کی بات کو ابتداء میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہے ہوئے تلبیہ پر محمول کیا جائے گا، جس نے حج تمتع کی بات کی، اس کی مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابہ کو دیا جانے والا حکم ہے اور جس نے حج قران کی بات کی، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخر میں پیش آنے والا عمل بیان کیا۔ بہرحال جو آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے حج قران کی بات کرتا ہے، اس کی بات مقبول ہو گی، کیونکہ اس کے پاس زیادہ علم ہے۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح دون قولھا: ولم يعتمر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4183
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ، خَالِصًا وَحْدَهُ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (حِلُّوا وَجْعَلُوهَا عُمْرَةً) ) الْحَدِيثَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صرف اور صرف حج کا احرام باندھا تھا، اس کے ساتھ کوئی دوسری چیز نہیں تھی، لیکن جب ہم چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حلال ہو جاؤ اور اس کو عمرہ بنا دو، …۔ الحدیث [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4183]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1557، 2506، 4352، 7367، ومسلم: 1216، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14462»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1557
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4184
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ بِالْحَجِّ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج کا احرام باندھا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4184]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1651، 1785، 7230، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14380 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14433»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1651
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4185
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج افراد کا احرام باندھا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4185]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5719»
وضاحت: فوائد: … حج افراد کی مشروعیت واضح ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج قران ہی کیا تھا۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1231
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں